Al-Risala · July 2016 · page 30

بڑوں کی صحبت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۳۰

معمر (senior) آدمی کو چند اضافی مواقع مل جاتے ہیں۔ اس کو موقع ملتا ہے کہ وہ زیادہ مدت تک علم سیکھے، وہ زیادہ مدت تک زندگی کا تجربہ حاصل کرے۔ اسی کے ساتھ بڑھاپے کی عمر تک پہنچنے کی بنا پر اس کو زندگی کے شدائد (difficulties) کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر سنجیدگی اور تواضع (modesty) آجاتی ہے۔ یہ صفت اس کو زندگی کے ایسے پہلووں سے آگاہ کرتی ہے جس سے جوان لوگ بالکل بے خبر رہتے ہیں۔

معمر (senior) انسان اگر فطری زندگی گزارے تو اپنی عمر کے آخری حصے میں اس کے اندر ایسی دانش (wisdom) پیدا ہوجاتی ہے جو جوانی کے عمر میں آدمی کے اندر نہیں ہوتی۔ وہ ایسی بصیرت افروز باتیں کرنے لگتا ہے جس سے کم عمر انسانوں کی باتیں خالی ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے انسان کی باتوں میں زیادہ خیر اور زیادہ برکت (نفع بخشی) شامل ہوجاتی ہے۔ آدمی جب پیدا ہوتا ہے اور پھر بچپن سے جوانی کی عمر تک پہنچتا ہے تو پہلے مرحلہ حیات میں اس کو بجلی جیسی توانائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے اندر عزم ہوتا ہے۔ وہ حوصلہ مندانہ انداز میں زندگی کی سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہے۔ یہ حالات اس کے اندر ایک پر اعتماد شخصیت بنا دیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں سب کچھ ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میں اپنی مرضی کے مطابق اپنے لیے ایک زندگی کی تعمیر کر سکتا ہوں۔

مگر دھیرے دھیرے اس کی عمر بڑھتی ہے۔ وہ ایجنگ (ageing) کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں میں پہلے جیسی طاقت نہیں رہی۔ اس کا حافظہ اس طرح کام نہیں کرتا جس طرح وہ پہلے کام کرتا تھا۔ اس کا دماغ ، اور اس کی آنکھ، اور اس کے کان، اور دوسرے اعضا اگر چہ بظاہر پہلے کی طرح ہیں، لیکن ہر ایک میں کمزوری آچکی ہے۔ یہ وہ دور ہوتا ہے جب کہ انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ابھرنے لگتی ہے۔ وہ ایک حقیقت شناس انسان بن جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ بے احتیاطی کے فیصلے کرتا تھا تو اب وہ اپنے فیصلوں میں زیادہ محتاط بن جاتا ہے۔ یہی وہ دورِ حیات ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues

Printed page