ریزرویشن کے بغیر
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱
ریزرویشن کے بغیر
ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن بہت ضروری ہے۔ ریزرویشن کے بغیر وہ اس ملک میں ترقی نہیں کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا ہو یا کوئی دوسرا ملک ، ہر جگہ فطرت کا ایک ہی اٹل قانون ہے۔ اس قانون کے مطابق، ریزرویشن کسی کمیونٹی کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں۔
ریزرویشن، برعکس طور پر، ترقی میں رکاوٹ ہے۔ ریزرویشن آدمی کے اندر کا کمپٹیشن کی اسپرٹ ختم کر دیتا ہے۔ ریزرویشن کے ذریعے کسی کو کوئی معمولی فائدہ تو مل سکتا ہے۔ لیکن ریزرویشن کے ذریعے بڑی ترقی نہیں ہو سکتی۔ اگر آپ کسی کو فیور نہ دیں تو آپ اس کو زیادہ بڑی چیز دیتے ہیں۔ اور وہ محنت کا محرک (incentive) ہے۔
فیور نہ ملنے کی وجہ آدمی کے اندر یہ سوچ جاگتی ہے کہ مجھے کسی کی مہربانی سے کچھ ملنے والا نہیں۔ اس بنا پر میرے لیے ایک ہی صورت ہے۔ وہ یہ کہ محنت کر کے میں میرٹ (merit) میں آنے کی کوشش کروں۔ یہ سوچ اس کے اندر محنت کے حق میں ایک کمپلشن (compulsion) پیدا کرتی ہے۔ اس کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ پہلے اگر وہ مین (man) تھا تو اب وہ سوپر مین (superman) بن جاتا ہے۔ اور آخر کار بڑی کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
محنت کے ذریعے آگے بڑھنے والے انسان کے اندر اور بھی کئی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے اندر خود اعتمادی (self-confidence) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے اندر حقیقت پسندی (realistic approach) آتی ہے۔ اس کے اندر شکایت کی نفسیات ختم ہو جاتی ہے۔ وہ دوسروں کے لیے اچھی مثال قائم کرتا ہے۔ وہ وقت اور مال دونوں کے استعمال کے معاملے میں سخت محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ سماج کا ایک دینے والا (giver) ممبر بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues