معکوس پبلسٹی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۶، صفحہ ۴۲
معکوس پبلسٹی
عبداللہ اینڈ کمپنی لمیٹڈ ایک سگریٹ ساز کمپنی تھی جو 1902 میں لندن میں قائم ہوئی۔ وہ سگار اور سگریٹ بناتی تھی۔ اس کمپنی کا ایک سگریٹ جس کا نام عبداللہ تھا، بہت مقبول ہوا۔ اس مقبولیت کا راز یہ ہے کہ کمپنی کے کچھ آدمی مشہور برٹش رائٹر جارج برنارڈ شا (George Bernard Shaw) (وفات: 1950) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ آپ ہماری سگریٹ کے بارے میں کچھ لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا نے کہا: میں اسموکنگ کے خلاف ہوں، میں کیسے اس کے بارے میں لکھوں۔ کمپنی والوں نے کہا کہ آپ یہی بات لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا غصہ ہو گیا۔ اس نے غصے میں ایک کاغذ اٹھایا اور اس پر یہ الفاظ لکھ دئیے :
“Don't smoke, even Abdulla”,
کمپنی والوں نے برنارڈ شا کے الفاظ اخبار میں چھاپ دیئے۔ جب لوگوں نے برنارڈ شا کا یہ ریمارک پڑھا تو عبداللہ سگریٹ کے بارے میں ان کا شوق بڑھ گیا۔ سگریٹ کی دکانوں پر عبداللہ سگریٹ خریدنے والوں کی بھیڑ لگ گئی۔ یہاں تک کہ عبداللہ سگریٹ اس زمانے کا سب سے زیادہ بکنے والا سگریٹ بن گیا، کمپنی والوں نے اس سے بہت پیسہ کمایا۔
اگر بولنا الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا ہو تو آدمی کو چاہئے کہ وہ چپ رہے۔ کبھی خاموشی کے ذریعے وہ مقصد زیادہ بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جس مقصد کو انسان بول کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیوں کہ اصل چیز نتیجہ ہے نہ کہ بولنا۔
اس دنیا میں جس طرح بولنا ضروری ہے، اسی طرح چپ رہنا بھی ضروری ہے۔ یہ آدمی کی دانش مندی کا امتحان ہے کہ وہ یہ جانے کہ کب اس کو بولنا ہے اور کب اس کو بولنے سے رک جانا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ حالات کا جائزہ لے، وہ نتیجہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنائے ۔ عمل وہی درست ہے جو نتیجہ خیز ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2016 All issues