اعلاء کلمۃ الاسلام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳
پڑھ کر اسلام کی علمی تشریح کی اور اسلام کی علمی بالا دستی کو دلائل کی زبان میں ثابت کیا۔ حتیٰ کہ اہل علم کے لیے اسلام کا نظریہ ایک ایسا نظریہ بن گیا جو پوری طرح ایک علمی مسلمہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسلام کو ماننا علم کو ماننا تھا، اور اسلام کا انکار کرنا ، علم کا انکار کرنا تھا۔ قدیم زمانے میں جن علوم کو ترقی حاصل ہوئی وہ زیادہ تر فلسفیانہ حیثیت رکھتے تھے۔ ان علوم کی بنیاد قدیم یونانی منطق پر قائم تھی۔ جس کو قیاسی منطق (syllogism) کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں نے اس یونانی منطق کو استعمال کر کے اس کو بھر پور طور پر اسلام کا مؤید بنا دیا۔ یہاں تک کہ خالص علمی طور پر کسی کے لیے یہ گنجائش باقی نہ رہی کہ وہ علمی بنیاد پر اسلام کی صداقت کا انکار کر سکے۔ مگر موجودہ زمانے میں جدید سائنس کے ظہور کے بعد پوری صورت حال بالکل بدل گئی۔ جدید سائنس نے قدیم سیاسی منطق کو ڈھادیا۔ اب ایک نئی منطق ظہور میں آئی ، جس کو سائنسی منطق (scientific logic) کہا جاتا ہے۔ قدیم یونانی منطق قیاسات پر قائم تھی، اس کے مقابلے میں جدید سائنسی منطق حقائق پر قائم ہوتی ہے۔ اس فرق نے قدیم دور کو ختم کر دیا۔ اسی کے ساتھ وہ دور بھی ختم ہو گیا جو اسلامی نظریات کے لیے علمی بنیاد بنا ہوا تھا۔ گویا کہ کلمۂ اسلام کی مغلوبیت کا سبب اس کے حق میں نظریاتی بنیاد (base) کا خاتمہ تھا، نہ کہ کسی سیاسی بنیاد کا خاتمہ۔ دورِ جدید میں جب یہ علمی انقلاب آیا تو ضرورت تھی کہ مسلمانوں میں دوبارہ وہی علمی سرگرمیاں جاری ہوں جو عباسی خلافت کے دور میں جاری ہوئی تھیں۔ اب ضرورت تھی کہ مسلم علماء ، جدید افکار کو پڑھ کر ان کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں اور اسلام کی نظریاتی بنیاد کو از سرِ نو جدید علمی مسلمات پر قائم کریں ، جیسا کہ دورِ قدیم کے مسلم علماء نے اپنے زمانے میں کیا تھا۔ مگر بروقت ایسا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس زمانے کے تقریباً تمام علماء نظریاتی اسلام اور مسلم اقتدار کو الگ کر کے نہ دیکھ سکے : They failed to differentiate between Muslim rule and Islamic ideology. اسی بے خبری کی بنا پر انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کو نظریاتی زوال پیش آ گیا۔ چناں چہ وہ مغربی قوموں کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے۔ کیوں کہ ان
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues