اعلاء کلمۃ الاسلام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۴
کے نزدیک یہی قومیں مسلمانوں کے سیاسی زوال کا سبب تھیں۔ مگر یہ ایک بھیا نک قسم کا غلط اندازہ تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے ایک شخص جو تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے جاہل رہ گیا ہو، اس کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے جسمانی طاقت کا انجکشن دیا جانے لگے۔ حالاں کہ یہ معلوم ہے کہ کوئی شخص صرف جسمانی تندرستی کی بنا پر تعلیم یافتہ نہیں بن سکتا۔
اس معاملے میں مزید غلطی یہ ہوئی کہ مغربی قوموں سے سیاسی نفرت کی وجہ سے مسلم علماء اور رہنما مغرب کی زبان اور مغرب کی سائنس سے بھی نفرت کرنے لگے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ان کی نسلیں مغربی تعلیم سے دور رہیں تا کہ ان کا ایمان اور اسلام محفوظ رہے۔ حالاں کہ یہ معاملہ سادہ طور پر تحفظ اسلام کا مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ اسلام کو دوبارہ فنی علمی بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ تھا۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ دہر اغلط اندازہ تھا۔ جس نے مسلمانوں کو اس شعور سے محروم کر دیا کہ وہ دوبارہ اسلام کے لیے مضبوط علمی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کر سکیں۔
اسلام عین اسی عالمی قانون کا ایک مظہر ہے، جس کے تحت ساری کائنات چل رہی ہے۔ اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس لیے اسلام اسی طرح ہمیشہ زندہ رہتا ہے جس طرح سورج ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ کوئی بدلی وقتی طور پر روشن سورج کو ڈھانپ سکتی ہے۔ لیکن بدلی کے ہٹتے ہی دوبارہ سورج کا روشن چہرہ اسی طرح سامنے آجاتا ہے جس طرح وہ پہلے تھا۔
سورج کے چہرے سے بدلی کے چھٹنے کا یہ واقعہ خود سائنس میں، اس کے بعد کے دور میں، پیش آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس اعتبار سے سائنس کے دو دور ہیں۔ ایک دور البرٹ آئن سٹائن (وفات 1955) سے پہلے کا ہے اور دوسرا، البرٹ آئن سٹائن کے بعد کا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیوٹن سے لے کر آئن سٹائن تک سائنس کی تحقیق اُس دنیا تک محدود تھی جس کو عالم کبیر (macroworld) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں اپنے آخری تجزیے میں ایٹم کا مجموعہ ہیں۔ اور ایٹم ایک ایسی چیز ہے جس کو توڑا اور ناپا جا سکتا ہے۔ اس بنا پر اُس دور میں یہ نظریہ بنا کہ حقیقی وجود صرف اسی چیز کا ہے جو تولی اور ناپی جاسکے۔ جو
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues