Al-Risala · August 2016 · page 16

Man Stands Alone

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۶

ہائے مری جان تیری یاد میں آراستہ کے ذہن کو لے کر برطانیہ کے جولین ہکسلے (وفات 1975) نے ایک کتاب لکھی، جس میں دکھایا گیا تھا کہ اب انسان کو خدا کی ضرورت نہیں ، اب انسان خود ہی اپنا سب کچھ بن سکتا ہے۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ تھا :

Man Stands Alone

اس کے بعد امریکا کے ڈاکٹر کریسی ماریسن (وفات: 1951) نے ایک اور کتاب چھاپی، جس میں سائنسی حقائق کی روشنی میں دکھایا گیا تھا کہ انسان صرف مخلوق ہے، وہ خدا کا درجہ نہیں لے سکتا۔ اس دوسری کتاب کا ٹائٹل یہ تھا:

اس طرح برٹرینڈ رسل (وفات 1975) نے اپنی کتاب : Why I am not a Christian میں لکھا کہ آرگمینٹ فرام ڈیزائن (argument from design) خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے ایک سائنٹفک استدلال ہے۔ مگر ڈارونزم نے اس استدلال کو ڈیسٹرائے کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں پروفیسر لون (Arnold Henry Moore Lunn، وفات: 1974ء) نے ایک کتاب لکھی، جس کا نام تھا: The Revolt Against Reason ۔ اس کتاب میں دکھایا گیا تھا کہ ڈارونزم خود ایک غیر ثابت شدہ نظریہ ہے۔ پھر وہ آرگمینٹ فرام ڈیزائن کے ثابت شدہ نظریے کو کیسے ڈیسٹرائے کر سکتا ہے۔

علمِ انسانی میں اس تبدیلی کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ اب مذہب اور سائنس کی دوری ختم ہو رہی ہے۔ دونوں ہی علم کے یکساں پہلو ہیں۔ سائنس کے اس دوسرے دور میں بہت سے اعلیٰ ذہن ابھرے، جنہوں نے جدید حقائق کو لے کر مذہبی صداقتیں اتنی ہی حقیقی ہیں، جتنا کہ مادی صداقتیں ۔ قدیم نیوٹینین دَور کو پہلا دھکا اس وقت لگا جب یہ ثابت ہوا کہ روشنی کے بارے میں نیوٹن کی مادی تعبیر (corpuscular theory of light) درست نہ تھی۔ نیوٹن کے نظریے کی غلطی پہلی بار اس وقت ظاہر ہوئی جب علماءِ نے روشنی کی مادی تشریح کرنے کی کوشش کی۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page