اعلاء کلمۃ الاسلام
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۵
چیز تول اور ناپ میں نہ آئے اس کا کوئی حقیقی وجود بھی نہیں۔
مگر آئن سٹائن کے زمانے میں ایک انقلابی واقعہ پیش آیا۔ اس زمانے میں یہ ہوا کہ انسانی علم میکرو ورلڈ (macroworld) سے گزر کر مائکرو ورلڈ (microworld) تک پہنچ گیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم ہماری دنیا کا آخری ذرہ نہیں۔ خود ایٹم بھی ایک مجموعہ ہے، جو الیکٹران اور پروٹان کے ملنے سے بنا ہے۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ الیکٹران، ایٹم کی طرح کوئی مادی ذرہ نہیں، بلکہ الیکٹران غیر مرئی لہروں (waves) کا نام ہے۔ ان لہروں کو دیکھا نہیں جاسکتا۔ ان کے بارے میں صرف یہ ممکن ہے کہ بالواسطہ اثرات کے ذریعے اُن کے وجود کے بارے میں کچھ اندازے قائم کیے جاسکیں۔ ایٹم کا لہروں میں تبدیل ہو جانا، سائنس میں ایک بے حداہم واقعہ تھا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ ہوا کہ استنباط (inference) کو ایک ٹھوس علمی بنیاد حاصل ہوگئی۔ اب یہ مان لیا گیا: Inferential argument is as valid as direct argument. منطق میں اس تبدیلی نے سائنس کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دیا۔ آئن سٹائن سے پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ مذہب میں صرف سکنڈری آرگمنٹ (secondary argument) ممکن ہے۔ مذہب میں پرائمری آرگمنٹ (primary argument) ممکن نہیں۔ چوں کہ مذہب یا اسلام کے عقائد پر تمام استدلالات استنباطی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور مذکورہ تقسیم میں استنباط ایک سکینڈری استدلال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے مذہب کو ان علوم میں شامل کر لیا گیا تھا جن کو (speculative) سائنسیز کہا جاتا ہے۔
مگر ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد جب منطق میں تبدیلی آئی اور استنباطی استدلال کو عین سائنسی استدلال کا درجہ مل گیا تو اس کے بعد مذہب یا اسلام کی علمی بنیاد میں بھی تبدیلی آگئی۔ اب مذہبی یا استنباطی استدلال کے طریقے کو پرائمری استدلال کا درجہ حاصل ہو گیا، جب کہ اس سے پہلے اس کو صرف سکینڈری استدلال کا درجہ ملا ہوا تھا۔
اب خود علم انسانی میں نئے واقعات پیش آنے لگے۔ مثال کے طور پر سائنس کے دورِ اول
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues