سمجھا جاتا تھا۔ ہی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۱۹
قطع ممکن نہیں ہو سکتا کوئی جوارِ خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احس احساسات، ادب محض قطعی ممکن ہے کہ ایسا کوئی جواب خارج میں موجود ہو۔ ہمارے مذہبی اور جمالیاتی احساسات اب اس مظاہر فریب (illusory phenomenon) نہیں کہے جاسکتے جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ نئی مظاہر فریب (illusory phenomenon) ہیں ہے جانتے جیسا کہ پہلے سائنسی دنیا میں مذہبی عارف بھی ایک حقیقت کے طور پر رہ سکتا ہے۔
The Limitations of Science (pp. 138-42)
سمجھا جاتا تھا۔ ہی
سائنٹفک فلاسفہ نے اس قسم کی تشریحات شروع کردی ہیں۔ مارٹن وائٹ (Morton White) کے الفاظ میں بیسویں صدی میں فلسفیانہ ذہن رکھنے والے سائنس دانوں نے ایک نئی جنگ (Crusade) کا آغاز کر دیا ہے ۔ جس میں وائٹ ہیڈ، ایڈنگٹن اور جینز کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ۔ “ (84 .The Age of Analysis, [pp) ان علماء کا فکر صریح طور پر کائنات کی مادی تعبیر کی نفی کرتا ہے۔ مگر ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے خود جدید طبیعیات اور ریاضیات کے نتائج کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں وہی الفاظ صحیح ہیں جو مارٹن وائٹ نے وائٹ ہیڈ کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ ایک بلند ہمت مفکر ہے جس نے مادہ پرستی کے شیروں کو عین ان کے بھٹ میں للکارا ہے۔
He is a heroic thinker who tries to beard the lions of intellectualism, materialism and positivism in their own انگریز ماہرِ ریاضیات اور فلسفی الفرڈ نارتھ وائٹ ہیڈ (وفات: 1947) کے نزدیک جدید معلومات یہ ثابت کرتی ہیں کہ فطرت بے روح مادہ نہیں ، بلکہ زندہ فطرت ہے ۔ انگریز ماہر فلکیات سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) نے موجودہ سائنس کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کائنات کا مادہ ایک شئے ذہنی ہے :
The stuff of the world is mind-stuff. (p.146)
ریاضیاتی طبیعیات کا انگریز عالم سر جیمز جینز (وفات 1946) جدید تحقیقات کی تعبیر ان الفاظ
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues