سمجھا جاتا تھا۔ ہی
الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰
میں کرتا جے کہ کائنات ، مادی کائنات نہیں بلکہ تصوراتی کائنات ہے : The universe is a universe of thought. (p. 134)
یہ انتہائی مستند سائنس دانوں کے خیالات ہیں جن کا خلاصہ ہے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ ہے کہ کائنات کی آخری ماہیت ذہن ہے :
The ultimate nature of the universe is mental. (p. 145)
یہ ایک عظیم تبدیلی ہے جو پچھلی نصف صدی کے دوران میں سائنس کے اندر ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کا اہم ترین پہلو، جے ڈبلیو این سولیون کے الفاظ میں یہ نہیں ہے کہ تمدنی ترقی کے لئے زیادہ طاقت حاصل ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ تبدیلی وہ ہے جو اس کی مابعد الطبیعیاتی بنیادوں (Metaphysical Foundation) میں واقع ہوتی ہے۔
The Limitations of Science, (pp. 138-50)
برطانیہ کے مشہور ماہر فلکیات اور ریاضی داں سرجیمز جینز (Sir James Jeans) کی کتاب ’’ پر اسرار کائنات‘‘ غالباً اس پہلو سے موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ قیمتی مواد ہے۔ اس کتاب میں موصوف خالص سائنسی بحث کے ذریعہ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں: آخری حقیقت ذہن ہے یا مادہ۔ یہ فلسفیانہ الفاظ میں دراصل یہ سوال ہے کہ کائنات محض مادہ کے ذاتی عمل کے طور پر خود بخود بن گئی ہے یا کوئی غیر مادی ہستی ہے جس نے بالا ارادہ اسے تخلیق کیا ہے جیسے کسی مشین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اپنے آخری تجزیے میں محض لوہا ہے اور پٹرول کا ایک اتفاقی مرکب ہے۔ گویا یہ کہنا ہے کہ مشین سے پہلے صرف لوہا اور پٹرول تھا اور اس نے خود ہی کسی اندھے عمل کے ذریعے محض اتفاق سے مشین کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے کے مشین اپنے آخری تجزیے میں انجینئر کا ذہن ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشین سے پہلے ایک ذہن تھا جس نے مادہ سے الگ اس کے ڈیزائن کو سوچا اور پھر اپنے ارادہ کے تحت اسے تیار کیا۔ ’’ذہن‘‘ کے تعیین میں اختلاف سے ذہن کو آخری حقیقت ماننے والوں میں مختلف گروہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے خدا کو ماننے والے خدا کو ماننے کے باوجود مختلف ٹولیوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مگر علمی مطالعہ کا یہ نتیجہ کہ کائنات کی آخری حقیقت ذہن ہے۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہب کی تصدیق ہے اور الحاد کی تردید۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues