Al-Risala · August 2016 · page 27

The value of a person lies in his excellence.

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷

رسول سے استفادے کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ کے اقوال کو محفوظ کرلیا جائے، اور اس کو لوگوں سے بیان کیا جائے۔ اس معاملہ میں ابو ہریرہ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ رسول اللہ کی باتوں کو سن کر اور آپ کے عمل کو دیکھ کر حقائق کا استنباط کیا جائے۔ یہ دوسرا فائدہ صرف متواتر صحبت کے ذریعے حاصل ہو سکتا تھا۔ اس دوسرے مقصد کے لیے علی ابن ابی طالب اور عائشہ بنت ابی بکر کا کم عمری میں انتخاب کیا گیا۔

مثال کے طور پر علی ابن طالب کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: قیمة كل امرئ مایحسن (جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 9-608)۔ یہ بات ان الفاظ میں کسی حدیث رسول میں نہیں آئی ہے۔ یہ رسول کی صحبت سے مستنبط کی ہوئی ایک حکمت ہے۔ اس بات کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی انسان کی قدر و قیمت اس اعتبار سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے کام کو کتنے امتیاز کے ساتھ انجام دیتا ہے:

The value of a person lies in his excellence.

یہی معاملہ عائشہ بنت ابی بکر کا ہے۔ حضرت عائشہ کے استنباطات مشہور ہیں۔ یہ تمام استنباطات اعلیٰ حکمت کا نمونہ ہیں۔ وہ رسول اللہ کی صحبت سے اخذ کی ہوئی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلاً حضرت عائشہ کا یہ حکیمانہ قول: ما خیر النبي صلی الله عليه وسلم بین أمرين إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کرتے تھے:

Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two. رسول اللہ سے سنی ہوئی باتوں کو حدیث کہا جاتا ہے۔ علی اور عائشہ کا امتیاز استنباط کے پہلو سے ہے۔ انھوں نے رسول اللہ کی صحبت میں رہ کر حکمت کی باتیں اخذ کیں۔ اور ان کو اپنی زبان میں بیان کیا۔ کم عمری میں ان دونوں صاحبان کے لیے صحبت رسول بہت مفید تھی ۔ اس صحبت نے ان کے اندراخذ (grasp) کی طاقت کو بہت بڑھا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page