Al-Risala · August 2016 · page 26

حکیمانہ تربیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶

حکیمانہ تربیت

انسان کی زندگی میں ابتدائی تقریباً دَس سال کو حیاتیاتی اعتبار سے تیاری کا دور ( formative period) کہا جاتا ہے۔ اس ابتدائی دور حیات میں انسان کی شخصیت کا بڑا حصّہ عملاً بن کر تیار ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں یہ ابتدائی مدت، تربیت کے نقطہ نظر سے بہت زیادہ اہم ہے۔ پیغمبر اسلام نے اس تربیتی مقصد کے لیے اپنی زندگی میں دو اشخاص کو خصوصی طور پر چنا۔ ایک، علی ابن ابی طالب اور دوسرے، عائشہ بنت ابی بکر۔ دونوں کو آپ نے یہ موقع دیا کہ وہ کم عمری میں آپ کی صحبت میں رہ کر تربیت پائیں، اور وہ چیز حاصل کریں جس کو قرآن (البقرۃ:129) میں حکمتِ رسول (prophetic wisdom) کہا گیا ہے۔

حکیمانہ تربیت کا یہ مقصد صرف کم عمری میں حاصل کیا جا سکتا تھا۔ آپ نے علی ابن ابی طالب کو اپنی صحبت میں رکھنے کا یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ آپ کم عمری میں ان کے کفیل بن گیے۔ عائشہ ایک خاتون تھیں، اس لیے ان کے لیے یہ طریقہ قابلِ عمل نہ تھا۔ چناں چہ آپ نے عائشہ بنت ابی بکر سے کم عمری میں نکاح کر لیا۔ روایات کے مطابق، یہ نکاح اس وقت ہوا جب کہ عائشہ کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب کہ ان کی عمر نو سال ہو چکی تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5188)۔ کچھ لوگوں نے عائشہ کی عمر نکاح کے بارے میں تاویل کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ مگر یہ ایک غیر ضروری کوشش ہے۔ یہ زاویۂ نظرکے فرق کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ اس واقعہ کو نکاح کے زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تیاری کی مدت (formative period) میں پیغمبرانہ تربیت کا معاملہ ہے۔

نتیجہ اس توجیہہ کی تصدیق کرتا ہے۔ چناں چہ یہ بات علماء کے درمیان ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے، یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ علی اور عائشہ، دونوں بصیرت اور تفقّہ کے اعتبار سے تمام صحابہ میں امتیازی درجہ رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page