Al-Risala · August 2016 · page 33

کرنے کا اصل کام

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳

زمانی تاریخ کی نسبت سے آپ کی زندگی کا حصہ بنا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اگر زمانی حالات مختلف ہوتے تو دعوت آپ کی زندگی میں ضرور شامل رہتی، لیکن ہجرت اور جہاد (بمعنی قتال) آپ کی زندگی میں شامل نہ ہوتے۔

ساتویں صدی عیسوی میں جب پیغمبر اسلام نے توحید کا مشن شروع کیا تو اس وقت عرب میں قبائلی دور (tribal age) پایا جاتا تھا۔ آج ساری دنیا میں تہذیب (civilization) کا دور آ چکا ہے۔ آج اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام کے مشن کا احیاء (revival) کرے تو پر امن دعوت کا حصہ تو ضرور اس کی تحریک میں موجود ہوگا۔ لیکن آج نہ قدیم طرز کی ہجرت کی ضرورت ہے اور نہ جنگ و قتال کی۔ آج دورِ تہذیب میں زمانی حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص آج کے حالات میں یہ کرے کہ وہ ہجرت اور قتال کے طریقے کو سنت رسول سمجھ کر دہرانے لگے تو یقیناً وہ غلطی کرے گا۔ وہ سنت رسول کے نام پر سنت رسول سے انحراف کا مرتکب بن جائے گا۔

کرنے کا اصل کام

بیسویں صدی کے نصف اول میں بیشتر مسلم ممالک مغربی طاقتوں کے زیر اقتدار تھے ، خواہ براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر۔ اس کے بعد آزادی کی تحریکیں چلیں۔ آج یہ تمام مسلم ممالک سیاسی طور پر آزاد ہیں۔ ان ملکوں کی تعداد تقریباً 60 تک پہنچ چکی ہے۔ گنتی کے اعتبار سے اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔ اس کے باوجود عالمی سیاسی نقشہ پر مسلمانوں کا کوئی وزن نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں سیاسی اقتدار ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی اقتدار کی حیثیت ثانوی بن گئی ہے۔ اب تعلیم اور سائنس اور ٹکنالوجی اور اقتصادیات کی اہمیت ہے... اس لئے آج کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی مسلم نسلوں کو ان غیر سیاسی شعبوں میں آگے بڑھایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page