Al-Risala · August 2016 · page 34

فرشتوں پر عقیدہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۶، صفحہ ۳۴

فرشتوں پر عقیدہ

ایک شخص جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو وہ کچھ عقائد کا اقرار کرتا ہے۔ ان میں سے ایک عقیدہ فرشتوں (angels) کا عقیدہ ہے۔ فرشتوں پر عقیدہ رکھنا، مذہب اسلام کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ فرشتے اللہ کے حکم سے ساری دنیا کا نظام چلا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک حدیث رسول ان الفاظ میںآئی ہے: ما فيها موضع أربع أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجداً لله (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2312)۔ یعنی کائنات میں چار انگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے جہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی کو جھکائے ہوئے اللہ کے لیے سجدہ کی حالت میں نہیں۔

بعض روایات میں ساجد اللہ کے بجائے يمجد الله (شرح السنة للبغوی، حديث نمبر (4172) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی اللہ کی تمجید کرتے ہیں۔ حدیث میں سجدہ یا تمجید کا مطلب معروف سجدہ یا تمجید نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی کامل تعمیل میں لگا ہونا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کے انتظام میں اتنے زیادہ فرشتے لگے ہوئے ہیں کہ کائنات ان کی تعداد سے بھر گئی ہے۔

کائنات میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر لمحہ ایک عمل جاری ہے۔ زمین اور بقیہ کائنات میں مسلسل طور پر انتہائی اعلی درجے کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ موجودہ زمانے میں اکثر سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ کائنات کے اندر ذہین ڈیزائن (intelligent design) پائی جاتی ہے۔ یہ ذہین ڈیزائن صرف موجود نہیں ہے، بلکہ وہ ہر لمحہ متحرک ہے۔ ہر لمحہ اس کے اندر بامعنی سرگرمیاں جاری ہیں۔ کہکشاؤں کی گردش، شمسی نظام، زمین کے اوپر لائف سپورٹ سسٹم، وغیرہ۔ ایسا اس کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ کچھ غیر معمولی طاقتوں کا اس کے اوپر کنٹرول ہو۔ وہ نہایت آنڈیل انداز میں اس کا انتظام کرنے میں مشغول ہوں۔ کائنات میں یہ بے خطا انتظام گویا خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کے کچھ انتظام کار ہیں۔ یہ انتظام کارخالق کے حکم سے اس کا معیاری انتظام کرنے میں مشغول ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2016 All issues

Printed page