Al-Risala · September 2016 · page 7

اللہ کی رحمت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۷

اللہ کی رحمت

قرآن میں اللہ کی صفت کو بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: ہیں:کَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12) یعنی اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیا ہے۔ یعنی اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ جو بھی معاملہ کرے گا وہ اعلیٰ رحمت کے مطابق ہوگا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی اور کسی معاملہ میں رحمت کے خلاف معاملہ نہیں کرے گا۔ اس رحمت کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہا جاسکتا ہے۔ اس خود اختیار کردہ اخلاقیات کو قرآن میں امانت (الاحزاب: 72) کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ نے انسان کو پیدا کر کے اس دنیا میں رکھا اور اس کو کامل آزادی دے دی۔ یہ کامل آزادی ایک انتہائی انوکھا اختیار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل آزادی کے باوجود اپنی آزادی کو ڈسپلن (discipline) کے اندر استعمال کرے۔ قرآن میں اس کی ایک حکمت اس طرح بیان کی گئی ہے: اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی (آل عمران: 120)۔ یہاں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقویٰ ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہو جائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقویٰ ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لئے ضرررساں (harmful) نہیں بنے گی، وہ تمھارے لئے غیر موثر ہو جائے گی۔

اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے قانون کے مطابق سازش کا وجود کبھی ختم نہ ہوگا۔ البتہ دانشمندانہ روش کے ذریعہ دوسروں کی سازش کو اپنے لئے بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کو یہ شکایت ہے کہ پولیس آپ کے خلاف ہے اور وہ آپ پر گولی چلاتی ہے تو اس معاملہ کا مطالعہ کیجئے۔ گہرے مطالعہ کے ذریعہ آپ دریافت کریں گے کہ پولیس کبھی ایسا نہیں کرتی کہ وہ خود سے آپ کے اوپر گولی چلائے۔ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر ماریں گے اس کے بعد پولیس جوابی کارروائی کے طور پر آپ کے اوپر گولی چلائے گی۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر نہ ماریں ۔ اس کے بعد یقیناً پولیس آپ پر گولی بھی نہیں چلائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page