اتباع رسول
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۸
اتباع رسول
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : فوالذي نفسي بيده، لا يؤمن أحد كم حتى أكون أحب إليه من والده وولده وزاد في رواية : والناس أجمعين ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 15-14) یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب بن جاؤں، اس کے والد سے اور اس کی اولاد سے۔ ایک اور روایت میں اضافہ ہے: اور تمام انسانوں سے۔
اس حدیث میں محبتِ رسول سے مراد کیا ہے۔ اس کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے : قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (3:31)۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ محبتِ رسول سے مراد اتباعِ رسول ہے ۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں محبتِ رسول کا لفظ رسول کے مشن کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی توحید کا مشن جو پیغمبر کی رہنمائی میں چل رہا تھا، اس سے اہل ایمان کو جذباتی تعلق (emotional attachment) ہونا چاہیے، ورنہ وہ آخری وقت تک اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ پیغمبرِ اسلام نے یہ بات مدینہ میں اس وقت فرمائی تھی، جب کہ بیرونی حملہ کی بنا پر جنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کچھ لوگ، اپنے والدین، اپنے اولاد، اپنے رشتے داروں، اور اپنے خاندان، اور مال، اور تجارت، جائداد سے محبت کی بنا پر یہ چاہنے لگے تھے کہ ان کو جنگ میں شرکت نہ کرناپڑے۔ ان حالات میں سورہ التوبہ کی آیت نمبر 24 نازل ہوئی۔ اور پیغمبر اسلام نے وہ بات فرمائی جو مذکورہ حدیث میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن کے اندر ذاتی محبت اللہ سے ہونی چاہیے (البقرۃ : 165)۔ رسول سے اہل ایمان کی محبت مقصدی محبت ہوتی ہے، نہ کہ ذاتی محبت۔ یہ حقیقت ایک حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے: أحبوا الله لما يغذوكم من نعمه وأحبوني بحب الله (سنن الترمذی ، حدیث نمبر : 3789)۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues