Al-Risala · September 2016 · page 12

دورِ آخر کی اصلاح

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

دورِ آخر کی اصلاح

مالک ابن انس (وفات 179ھ) تبع تابعی اپنے شیخ وہب ابن کیسان (وفات 127ھ)

تابعی کے بارے میں بتاتے ہیں: كان وهب بن كيسان يقعد إلينا، ثم لا يقوم أبدا حتى يقول لنا إنه لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها (مسند الموطأ للجوهری، حدیث نمبر: 783) یعنی وہب ابن کیسان ہماری مجلس میں آتے، تو اٹھنے سے پہلے ہمیشہ یہ بات کہتے، بے شک اس امت کے آخر کی بھی اسی سے اصلاح ہوگی جس نے اس کے اول کی اصلاح کی تھی۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصولِ ابتداء پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بتایا، پھر صحابہ سے یہ بات تابعین کو ملی، پھر تابعین سے یہ بات تبع تابعین تک پہنچی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اصول کی صداقت میں کوئی شک نہیں۔

اب غور کیجیے کہ امت مسلمہ کا اول کیا تھا، اور اس کا آخر کیا۔ امت مسلمہ کا اول دورِ وہ تھا جب کہ اس کے اندر قرآن پڑھا اور پڑھایا جاتا تھا۔ حدیث اور سنت کا چرچا تھا۔ صحابہ اور تابعین کی مجلسیں جگہ جگہ قائم تھیں_ یہ تھا امت کا دورِ اول۔ اس دور کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ امت کا وہ آڈیئل دور ہے جب کہ اسلام اپنی اصل حالت پر قائم تھا۔

اس کے بعد وہ دور آیا جب کہ امت کے اندر ایک اور چیز کا اضافہ ہوا۔ اور وہ بعد کو بننے والی تاریخ تھی۔ اس تاریخ میں وہ تمام اجزاء موجود تھے، جو کسی قوم کی تاریخ میں شامل ہوتے ہیں۔ اس میں سیاسی اقتدار تھا، جنگ تھی، قومی تصورات تھے، فاتح اور مفتوح (ruler and ruled) کے مساوات (equation)، ہمسایہ قوموں سے تعلقات، وغیرہ۔

اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دورِ اول مبنی بر دعوت دور تھا۔ اور بعد کا دور مبنی بر سیاست دور بن گیا۔ پہلے دور میں اہل ایمان اصولی اسلام پر قائم تھے، بعد کے دور میں وہ ایک قومی مذہب پر قائم ہو گئے۔ یہی اس معاملے کا خلاصہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page