Al-Risala · September 2016 · page 13

دین کا تسلسل

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳

دین کا تسلسل

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله، ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين (شرح مشکل الآثار، حدیث نمبر: 3884)۔ یعنی اس علم کے حامل ہر نسل میں اس کے عادل لوگ ہوں گے، جو غلو کرنے والوں کی تحریف سے اس کو محفوظ رکھیں گے، اہلِ باطل کے انحراف سے اس کو پاک رکھیں گے، اور کم علم لوگوں کی غلط تاویلات سے اس کو بچائیں گے۔

اس حدیث رسول میں امت کے اہل علم کی ایک ذمہ داری بتائی گئی ہے۔ ہر دور میں امت کے اہل علم کا یہ فریضہ ہوگا کہ وہ گہرے مطالعہ کے ذریعہ غلو پسندوں (extremists) کی غلطیوں کو دریافت کریں، اور انتہا پسندانہ تصور دین کے مقابلے میں صحیح تصور دین کو پیش کریں۔ وہ دین سے انحراف کو جانیں، اور منحرفانہ تشریح کے بجائے درست تشریح لوگوں کو دوبارہ بتائیں۔ وہ کم علم لوگوں کی قرآن وسنت کی غلط تاویل کو بولیں، اور درست تاویل کو دوبارہ قائم کریں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن وسنت پر مبنی جو دین امت کو دیا، اس کا متن تو محفوظ ہے۔ اور ہمیشہ محفوظ رہے گا، لیکن امت کی بعد کی نسلوں میں جو لوگ امت کا حصہ بنیں گے، وہ اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) اور زمانی افکار کی بنا پر اصل دین سے انحراف میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ وہ بظاہر قرآن وسنت کا نام لیں گے۔ لیکن ان کی باتوں میں غیر اہلِ دین کا فکر شامل ہو جائے گا۔ اس لیے ہر دور میں ضرورت ہوگی کہ امت کے اندر ایسے صالح اہل علم پیدا ہوں جو اسلام کو دوبارہ اس کی اصل صورت میں زندہ کرتے رہیں۔ یہ حدیث رسول اس عمل کو بتاتی ہے، جس کے ذریعے امت میں دین کے صحیح تصور کا تسلسل قائم رہے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت عملی اعتبار سے ہر گمراہی سے بچی رہے گی ۔ یہ بات فکری اور نظریاتی اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اسلام کا متن (text) محفوظ ہے اسی طرح اسلام کا درست تصور بھی ہمیشہ محفوظ رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues

Printed page