پر امن دعوت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴
پر امن دعوت
مورخ ابن اثیر نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو یمن بھیجا۔ اس سے پہلے آپ نے خالد بن ولید کو ان کے درمیان بھیجا تھا تا کہ وہ ان کو اسلام کی طرف بلائیں، مگر انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہا۔ اس کے بعد آپ نے علی ابن ابی طالب کو بھیجا۔ اور ان کو یہ ہدایت دی کہ وہ اہل یمن کو خالد اور ان کے ساتھی کے نقصان کا تاوان ادا کریں (وآمره أن يعقل خالدا ومن شاء من أصحابه)۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر انھوں نے اہل یمن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد قبیلہ ہمدان کے تمام لوگوں نے ایک ہی دن میں اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے یہ واقعہ لکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ اہل ہمدان پر سلامتی ہو۔ ایسا آپ نے تین بار کہا۔ پھر اسی طرح دیگر اہل یمن نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کی خبر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ کر بھیجی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکر کے طور پر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا۔ (الکامل فی التاریخ، جلد 2، صفحہ 300، بیروت، 1979)
خالد بن الولید عسکری مزاج کے آدمی تھے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر انھوں نے اہل یمن کے ساتھ سختی کا معاملہ کیا۔ رسول اللہ نے اس رویہ کو درست نہیں قرار دیا۔ بلکہ اس کی تلافی کا انتظام فرمایا۔ تلافی کے معاملے کا مثبت اثر ہوا۔ اہل یمن کا دل نرم ہو گیا۔ انھوں نے پہلے اسلام کو قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن اب انھوں نے اسلام کی قبولیت کا اعلان کر دیا۔
دعوت الی اللہ کا کام ایک ایسا کام ہے جو ہمیشہ نتیجہ خیز ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کو پر امن انداز میں انجام دیا جائے، اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے، مدعو کی طرف سے اگر کوئی ناموافق رویہ سامنے آئے تو مدعو کے ساتھ یک طرفہ نرمی کا معاملہ کیا جائے، مدعو کے مقابلے میں ہمیشہ مثبت رویہ اختیار کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues