بے آمیز دعوت کی ذمہ داری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۶
بے آمیز دعوت کی ذمہ داری
روایات میں آیا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ کو غم کی حالت میں دیکھا تو انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ پر بڑھاپے کے آثار نظر آنے لگے (قدشبت) ۔ آپ نے فرمایا: شیبتنی هود و اخواتها (البحر الزخار ، حدیث نمبر : 92)۔ اس حدیث پر اور دوسری متعلق روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ کا یہ غم نبوت کی دعوتی ذمہ داری کی بنا پر تھا۔ دعوت کی ذمہ داری خدائی پیغام رسانی کی ذمہ داری ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ یہ کام کامل حد تک بے آمیز طریقہ سے کیا جائے۔ اس میں کسی بھی قسم کے قومی یا مادی یا سیاسی پہلو کی آمیزش نہ کی جائے ۔ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کا یہی وہ پہلو ہے جس نے رسول اللہ کو اتنا غم گین بنا دیا کہ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ آپ قبل از وقت بوڑھے ہوگئے ہیں۔
دعوتی ذمہ داری کے اس پہلو کا ذکر قرآن میں مختلف انداز سے آیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں قرآن کے دو حصوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
1۔ پس تم جمے رہو جیسا کہ تم کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنھوں نے تمھارے ساتھ تو بہ کی ہے اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ اور ان کی طرف نہ جھکو جنھوں نے ظلم کیا ، ورنہ تم کو آگ پکڑ لے گی اور اللہ کے سوا تمھارا کوئی مددگار نہیں ، پھر تم کہیں مدد نہ پاؤ گے ۔ (11:112-13)
2۔ اور قریب تھا کہ یہ لوگ فتنہ میں ڈال کر تم کو اس سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے، تا کہ تم اس کے سوا ہماری طرف غلط بات منسوب کرو اور تب وہ تم کو اپنا دوست بنا لیتے۔ اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑو۔ پھر ہم تم کو زندگی اور موت دونوں کا دہرا (عذاب) چکھاتے۔ اس کے بعد تم ہمارے مقابلہ میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔ (17:73-75)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues