بے آمیز دعوت کی ذمہ داری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۷
قرآن وحدیث کے متعلق حوالوں پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبل از بڑھاپے کا سبب صرف ایک تھا۔ اور وہ یہ احساس تھا کہ دعوت الی اللہ کا کام اللہ رب العالمین کی نمائندگی کا کام ہے۔ اس کام کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کو آخری حد تک بے آمیز حالت کے ساتھ انجام دیا جائے، کوئی دوسرا پہلو اس میں ہر گز شامل نہ کیا جائے۔ سورہ ہود کی آیات میں رسول اللہ کے ساتھ دیگر اہل ایمان کو بھی شامل کیا گیا ہے اور دونوں کے لیے یکساں طور پر یہ وارننگ ہے کہ: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (11:13)۔ اس اسلوب سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ ایک ایسی ذمہ داری کا معاملہ ہے جو پیغمبر اور پیغمبر کی امت سے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ کیوں کہ پیغمبر آخر الزماں کے بعد دعوت کا کام موقوف نہیں ہوتا، بلکہ امت وسط (البقرۃ: 143) کے ذریعہ قیامت تک مسلسل طور پر جاری رہنے والا ہے۔
اصل یہ ہے کہ داعی اپنا دعوتی کام کسی خالی جزیرے میں نہیں کرتا، بلکہ وہ اس کام کو عوام کے درمیان انجام دیتا ہے۔ اس بنا پر دعوت کے عمل کے دوران مختلف قسم کے تقاضے بار بار سامنے آتے ہیں۔ مثلاً قومی تقاضا، گروہی تقاضا، مادی تقاضا، سیاسی تقاضا، وغیرہ۔ اس قسم کے تقاضے بار بار یہ دعوت دیتے ہیں کہ داعی ان کی رعایت کرے۔ تاکہ دعوت کا کام بلا رکاوٹ انجام دیا جا سکے۔ لیکن اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ خدائی تقاضے کے سوا کسی بھی تقاضے کا کوئی اعتبار نہ کیا جائے، بلکہ تمام تر خدائی تقاضے کو اہمیت دیتے ہوئے دعوت کا کام اپنی خالص اور بے آمیز صورت میں جاری رکھا جائے ۔ دعوت إلی اللہ کی یہ شرط دعوت کے کام کو ایک ایسا گراں بار کام بنا دیتی ہے کہ داعی سے اس کا سکون چھن جائے اور وہ لوگوں کو قبل از وقت بوڑھا نظر آنے لگے۔ دعوت کا کام ایک خالص حق کا کام ہے۔ اس معاملے میں خدائی تقاضا (divine consideration) کے سوا کسی اور تقاضے (consideration) کی رعایت جائز نہیں۔ دعوت کے کام کو بظاہر انسان انجام دیتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے دعوت کا کام ایک خدائی کام ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ دعوت کے کام کو انتہائی حد تک پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues