Al-Risala · January 2016 · page 44

اعراض کی حکمت

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۶، صفحہ ۴۴

سوال

دعوتِ ورکر اور سوشل ورک میں فرق کیا ہے، کیا انبیاء نے دعوۃِ ورکر کے ساتھ سوشل ورک بھی کیا ہے؟ ( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)

جواب

سوشل ورک انسانی خدمت کے اعتبار سے ایک اچھا کام ہے۔ لیکن سوشل ورک امت مسلمہ کا اصل مشن نہیں۔ سوشل ورک لوگوں کو مسائل دنیا سے بچانے کے لیے ہوتا ہے۔ جب کہ پیغمبر کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مسائل آخرت سے بچایا جائے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت پر غور کیجئے جس کا ترجمہ یہ ہے: وہ بلند در جوں والا، عرش کا مالک ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی بھیجتا ہے، تا کہ وہ ملاقات کے دن سے ڈرائے (40:15)۔ اس مضمون کی آیتیں قرآن میں کثرت سے آئی ہیں۔ ان کو دیکھنے کے بعد اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ امت کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ یا اُس ہدایت کو لوگوں تک پہنچانا ہے جو اللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے اتاری گئی ہے۔ (5:67) دونوں قسم کے کاموں میں جو فرق ہے، ان میں سے ایک اہم فرق یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے کام میں داعی کے اندر تعلق باللہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اپنے عمل کے دوران وہ اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ سے دعائیں کرتا ہے، اللہ سے رہنمائی کا طالب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، سوشل ورک میں تعلق بالنّاس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، ساری توجہ انسانوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں اگر خدا رخی ذہن بنتا ہے تو سوشل ورک میں فطری طور پر انسان رخی ذہن کی پرورش ہوتی ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں اگر فرشتوں کی صحبت حاصل ہوتی ہے تو سوشل ورک میں ساری توجہ کا مرکز انسان بن جاتا ہے۔ دعوت الی اللہ میں مشغول لوگوں کے اندر اگر جنت اور جہنم کا چرچا ہوتا ہے تو سوشل ورک میں مشغول لوگوں کے اندر انسانوں سے متعلق خبروں کا چرچا ہونے لگتا ہے۔ دعوت الی اللہ کے کام میں اگر کیفیت (quality) کی اہمیت ہوتی ہے تو سوشل ورک میں ساری اہمیت کمیت (quantity) کی ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2016 All issues

Printed page