ٹکنالوجی کا کمال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۷
ٹکنالوجی کا کمال
ماہنامہ الرسالہ 1976 میں جاری ہوا۔ یہ غالباً دنیا کا واحد ماہنامہ ہے جو صرف ایک شخص کی تحریروں پر نکلتا ہے۔ ایک شخص کی زبان، اور ایک شخص کے فکر (thought) کے سوا کسی دوسرے کا کوئی ڈائرکٹ کنٹری بیوشن اس میں نہیں ہوتا۔
کچھ سالوں سے میں الرسالہ کے مضامین اپنے ہاتھ سے نہیں لکھتا، بلکہ میں الرسالة کے مضامین کوڈکٹیٹ (dictate) کرتا ہوں۔ پہلے یہ تھا کہ کوئی صاحب اس کو ہاتھ سے لکھتے، پھر اس کو کاتب کے حوالے کیا جاتا، پھر تصحیح مراحل سے گزر کر وہ مطبوعہ الرسالہ کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا۔
لیکن اب جدید ٹکنالوجی نے اس معاملے کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ میں مضمون کے الفاظ بولتا ہوں اور کوئی صاحب فوراً کے فوراً اس کو ٹائپ کرتے ہیں۔ اس درمیان میں کسی ریفرنس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ بھی ٹائپ کرنے والے صاحب فوراً کے فوراً کمپیوٹر میں موجود ڈیجیٹل لائبریری یا انٹرنیٹ سے نکال دیتے ہیں، اور اس کو مضمون میں اسی وقت شامل کر دیا جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں ٹکنالوجی اللہ تعالی کی عجیب نعمت ہے۔ مذکورہ بات اس نعمت کا ایک بہت چھوٹا حصہ ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں، جب کہ ٹکنالوجی کی مدد سے الرسالہ مشن کو عالمی سطح پر چلایا جا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے مادہ (matter) کو حکم دے دیا ہے کہ تم انسان کی ہدایت پر چلو۔ انسان کی ہدایت پر اس کی آواز کو یہاں سے وہاں پہنچاؤ۔ اس کی ہدایت پر اس کے تمام معاملات کو انجام دو۔ میری پیدائش 1925 میں ہوئی۔ اس لحاظ سے مجھے ذاتی طور پر یہ تجربہ ہے کہ قدیم زمانے میں کیا تھا اور موجودہ زمانے میں کیا ہے۔ اس بنا پر میرے لیے موجودہ زمانے کی ہر چیز شکر کا آئٹم بن جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues