ٹکنالوجی کا کمال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۸
سوال
ایک حدیث ہے: اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا (مسند احمد، حدیث نمبر 26602) میرا سوال یہ ہے کہ علم نافع اور غیر نافع کا معیار کیا ہے؟ (حافظ سید اقبال احمد عمری) جواب نافع ہونے کا دومعیار ہے۔ دنیا کے اعتبار سے نافع ہونا، اور آخرت کے اعتبار سے نافع ہونا۔ مگر زیادہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد معروف معنوں میں علم دنیا اور علم دین نہیں ہے۔ بلکہ اس کا خطاب خود صاحب علم سے ہے۔ کسی علم کا نافع یا غیر نافع ہونا، اس پر منحصر ہے کہ صاحب علم اس کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ گویا نافعیت کا معیار علم کا استعمال ہے، نہ کہ خود علم۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا علم بھی غیر نافع بن جاتا ہے کہ اگر اس کو دنیوی مفاد کے لیے استعمال کیا جائے ۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : من تعلم علما مما يبتغی به وجه الله عز وجل لا يتعلمه إلا ليصيب به عرضا من الدنيا، لم يجد عرف الجنة يوم القيامة يعني ريحها (سنن ابو داوود، حدیث نمبر 3664) یعنی جس نے ایسا علم سیکھا جس سے اللہ کی رضا حاصل کی جاتی ہے، مگر اس نے یہ علم صرف دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر علم ایک کار آمد علم ہے۔ اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بناتا ہے۔ اس لحاظ سے اصل اہمیت استعمال کی ہے، نہ کہ علم کے قسم کی۔ اسی حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: انما الاعمال بالنيات (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1) یعنی عمل کا دار ومدار نیت پر ہے۔ آخرت کی نیت سے حاصل کیا ہوا علم نافع ہے، اور دنیا کی نیت سے حاصل کیا ہوا علم غیر نافع ہے۔ پونے (مہاراشٹر) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے رابطہ قائم فرمائیں: Abdus Samad Shaikh Fitwell Seat Centre, 1050-Raviwar Peth, Pune Cell Mob. 096650509036
‹ Previous page Next page › Contents of September 2016 All issues