Al-Risala · October 2016 · page 4

تدبر کلمپر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴

تدبر کلمپر

قرآن کی سورہ نمبر 38 کی آیت (نمبر 29) ہے: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن ، کتاب تدبر ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ خدا کی کتاب میں تدبر کرو، زمین و آسمان میں تدبر کرو، کائنات میں پھیلی ہوئی آیتوں (signs) میں تدبر کرو۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، ان کے بارے میں قرآن میں سخت تنبیہہ آئی ہے، مثلا فرمایا: لَهُمْ قُلُوبٌ لَا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ (7:179) یعنی ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل۔

تدبر (contemplation) کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں اور خدا کی تخلیق میں حکمت کے پہلو چھپے ہوئے ہیں، غور کر کے حکمت کے ان پہلوؤں کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، یہ تدبر کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ تدبر اور تفکر کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر آدمی، حیوان کی مانند بن جاتا ہے۔ انسان وہی ہے جس کے اندر تدبر کی صفت موجود ہو۔ تدبر کے معانی کی دریافت کرنا کیا ہے۔ اس کو قرآن میں ایک مادی تمثیل کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ تمثیل یہ ہے: وَأَوْحَى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ - ثُمَّ كُلِي مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (16:68-69) یعنی اور تمھارے رب نے شہد کی مکھی پر وحی کیا کہ پہاڑوں اور درختوں اور جہاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page