تدبر کلمپر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۵
ٹٹیاں باندھتے ہیں ان میں گھر بنا۔ پھر ہر قسم کے پھلوں کا رس چوس اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چل۔ اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے، اس کے رنگ مختلف ہیں، اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔ بے شک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیں۔
قرآن کی اس آیت میں ایک مادی مثال کی صورت میں تدبر کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ شہد کی مکھی کا کام یہ ہے کہ وہ پھولوں سے اس کا نکٹر، ایکسٹریکٹ (extract) کرے، اور پھر ان کو جمع کر کے شہد بنائے۔ شہد کی مکھی جو اپنے چھتے سے نکلتی ہے تو اس کو بظاہر غیر شہد کے طویل جنگل کے درمیان لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ نہایت ہنر مندی کے ساتھ ایسا کرتی ہے کہ دوسری تمام چیزوں کو نظر انداز کر کے پھول کے پاس پہنچتی ہے۔ پھول کے اندر بہت کم مقدار میں ایک میٹھارس موجود ہوتا ہے، جس کو نکٹر (nectar) کہتے ہیں۔ وہ ہر پھول سے صرف اس کے نکر کو لیتی ہے، اور اس کے بعد اپنے چھتے کی طرف چلی جاتی ہے۔
یہی تدبر ہے۔ انسان کو جس دنیا میں جینا پڑتا ہے، وہ گویا ایک عالمی جنگل ہے، اس جنگل میں ہر جگہ حکمت و معرفت کا نکٹر (nectar) چھپا ہوا ہے، تدبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ دنیا کے جنگل میں ڈسٹریکٹ (distract) نہ ہو۔ وہ غور و فکر کر کے حکمت و معرفت کے چھپے ہوئے نکر کو دریافت کرے، اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو وہ انسان بنائے، جس کو صاحب معرفت انسان (realized person) کہا جاتا ہے۔ جو آدمی تدبر کی اس صلاحیت سے خالی ہو، اس کے لئے یہ دنیا جھاڑ جھنکار کی مانند ہوگی۔ تدبر کی صفت انسان کو انسان بناتی ہے، اور تدبر سے محرومی انسان کو حیوان بنا دیتی ہے۔ موجودہ زمانے کا وہ ظاہر جسے کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ اس تہذیب کے بے شمار اجزاء ہیں۔ بظاہر یہ بھی ایک وسیع جنگل کی مانند ہے۔ جن لوگوں کے اندر تدبر کی صلاحیت نہ ہو، وہ اس تہذیب کو ایک جنگل کی صورت میں دیکھیں گے۔ اور جن لوگوں کے اندر حقیقی معنوں میں تدبر کی صلاحیت ہو، وہ شہد کی مکھی کی مانند تہذیب کے اس جنگل میں حکمت کا نکر دریافت کر لیں گے، اور پھر ان کو دکھائی دے گا کہ جدید تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے خالق کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues