Al-Risala · October 2016 · page 18

ایکسیپٹنس آف ریالٹی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۸

ایکسیپٹنس آف ریالٹی

اسلام کا لفظی مطلب ہے سرنڈر کرنا (to surrender) ۔ یہ سرنڈر تمام تر سلف چائس (self choice) پر مبنی ہوتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر ذاتی فیصلے کے تحت اسلام کو اپنا چائس بناتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کا مطلب ہے حقیقت واقعہ کو دریافت کر کے اس کو ماننا۔

Islam means the acceptance of reality.

قرآن میں بار بار اس حقیقت کو دہرایا گیا ہے کہ اسلام میں کوئی زبردستی نہیں، یہ ہر آدمی کے ذاتی چائس کا معاملہ ہے۔ مثلاً اس معاملہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر (18:29)۔ یعنی جو شخص چاہے مانے اور جو شخص چاہے اس کا انکار کر دے۔ وہی اسلام معتبر اسلام ہے جو آزادانہ فیصلے کے تحت اختیار کیا گیا ہو۔ جبری اسلام کی کوئی قیمت اللہ کے یہاں نہیں۔ اسلام کی تمام تعلیمات اسی اصول پر مبنی ہیں۔ توحید، رسالت، آخرت، جنت اور دوزخ، سب میں آزادی کا یہی تصور شامل ہے۔

حقیقت واقعہ کے اعتراف کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے ذاتی مطالعہ اور آزادانہ غور وفکر کے ذریعہ اسلام کی آئیڈیالوجی کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اس کے اندر ذہنی بھو نچال پیدا کرتی ہے۔ پھر ایک حقیقت واقعہ کے طور پر وہ اس کا اعتراف کرتا ہے، اور اپنی زندگی کو اس حقیقت کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ یہ سب کچھ اول سے آخر تک آزادانہ ذاتی فیصلے کے تحت ہوتا ہے۔ اس پہلو سے یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ اسلام اعتراف حقیقت (acceptance of reality) کا نام ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اسلام میں تشدد (violence) کا کوئی مقام نہیں۔ اسلام اور تشدد دونوں متضاد چیزیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس حقیقت کو اس طرح بھی بیان کیا جاسکتا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page