Al-Risala · October 2016 · page 17

اسلام : زیر و وائلنس کلچر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۷

اسلام : زیر و وائلنس کلچر

قرآن اسلام کا مستند ٹیکسٹ ہے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا مقصد فرد کا ارتقا ہے، اور فرد کا ارتقا صرف امن کے حالات میں ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن میں ہے: اَلصُّلْحُ خَيْرٌ (4:128)۔ یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح سے مراد امن ہے۔ اور خیر کا لفظ یہاں طریقہ (method) کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس معاشرہ میں امن کے حالات ہوں وہاں وہ مواقع (opportunities) موجود ہوں گے جن کو استعمال کر کے ایک فرد کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مطلوب انداز میں اپنی شخصیت کا ارتقا کر سکے۔ اس لحاظ سے امن اسلام میں خیر اعلی (summum bonum) کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی تخلیق ایک مقصد کے تحت ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ انسان اپنے اندر امن پسند شخصیت کی تعمیر کرے۔ اسلام کے لئے امن صرف ایک مجرد تصور نہیں، بلکہ اس کے ساتھ عذاب اور ثواب کا قانون جڑا ہوا ہے۔ یعنی جو فرد اپنے اندر امن پسند شخصیت بنائے اس کے لئے آخرت میں ابدی ثواب، دارالسلام (یونس: 25) ہے، اور جو فرد اپنے اندر امن پسند شخصیت کی تعمیر میں ناکام رہے، اس کے لئے آخرت میں ابدی عذاب ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم امن پسندی کے ساتھ لزوم (compulsion) کا تصور شامل کردیتی ہے۔ امن کے ساتھ سزا و جزا کے تصور کو شامل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امن کی خلاف ورزی پر لازمی سزا (inescapable punishment) ہے اور امن کا طریقہ اختیار کرنے پر لازمی انعام (guaranteed reward)۔ ان دونوں انجام کا تعلق آخرت کی ابدی دنیا سے ہے، یعنی سزا بھی ابدی اور انعام بھی ابدی۔ دنیا کے کسی قانونی نظام میں ابدیت کا یہ تصور شامل نہیں ہے، اس لئے دنیا کے کسی قانونی نظام میں امن پسندی کے لئے وہ طاقت ور محرک (strong incentive) موجود نہیں جو اسلام کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page