Al-Risala · October 2016 · page 20

فیصلہ کی بنیاد

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۰

فیصلہ کی بنیاد

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 10ھ کو مدینہ میں ہوئی۔ وفات سے چند مہینہ پہلے 9ھ میں آپ نے حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر آپ نے امت کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا تھا: ترکت فیکم أمرين، لن تضلوا ما تمسكتم بهما: كتاب الله وسنة نبيه (موطا امام مالك، حدیث نمبر 1874)۔ یعنی میں نے تمھارے درمیان دو امر چھوڑے ہیں، تم ہرگز گمراہ نہ ہو گے، جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہو گے، اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کی سنت۔ ملا علی قاری نے امر کا مطلب بتایا ہے حکم (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، بيروت، 2002، 1/269)۔ یعنی فیصلہ کرنے والا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ امر سے مراد معیار (criterion) ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود موجود نہ ہوں گے، اس وقت امت کو یہ کرنا ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو وہ قرآن اور سنت میں اس مسئلے کا جواب تلاش کرے، اور جو جواب قرآن وسنت میں ملے، اس کو کسی عذر کے بغیر قبول کر لے۔

مسلمانوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ جب کوئی گروہ ان کو اپنا دشمن نظر آئے تو فورا اس کے خلاف لڑنا شروع کر دے۔ بلکہ انھیں اس کا جواب قرآن وسنت میں تلاش کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا کریں تو انھیں قرآن میں اس کی واضح رہنمائی ملے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک رہنما آیت کا ترجمہ یہ ہے: بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا (41:34)۔ اس آیت کے مطابق، کوئی گروہ مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے۔ اس کے برعکس، پیدائشی طور پر ہر گروہ مسلمانوں کے لیے امکانی دوست کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں مسلمانوں کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوة (potential) دوست کو بالفعل (actual) دوست بنائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page