Al-Risala · October 2016 · page 21

اسلام اور محبت انسانی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۱

اسلام اور محبت انسانی

ایک بار میں امریکا کے سفر پر تھا۔ وہاں مجھے سینٹ پال چرچ کے ایک پروگرام میں انوائٹ کیا گیا۔ میں نے اسلام اور امن کے موضوع پر تقریر کی۔ تقریر کے خاتمہ پر ایک مسیحی اسکالر نے سوال کیا کہ مسیحیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اپنے دشمنوں سے محبت کرو: Love your enemy (Matthew 5:44)

انھوں نے کہا کہ آپ قرآن کی کوئی ایسی آیت بتا سکتے ہیں، جس میں اسی قسم کی مثبت تعلیم دی گئی ہو۔ میں نے کہا کہ ہاں ایسی آیت موجود ہے۔ پھر میں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ ۔ (41:34) یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ میں نے کہا کہ دشمن سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان سے محبت کرو، خواہ بظاہر وہ تم کو اپنا دشمن نظر آتا ہو۔ قرآن میں مزید یہ اضافہ ہے کہ دشمن سے اگر تم برا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ منفی ردعمل کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس کے برعکس، اگر تم اپنے دشمن سے اچھا سلوک کرو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن کا ضمیر بیدار ہوگا، وہ تمھارے ساتھ اپنے تعلق کو درست کر لے گا۔ مزید یہ کہ اگر دشمن کے رویہ کے بنا پر تمھارے اندر منفی ردعمل پیدا ہو تو اس کو شیطان کا وسوسہ سمجھو، اور اپنے آپ کو ہر حال میں یک طرفہ حسن سلوک کے اصول پر قائم رکھو۔

یہی اسلام کی اصل تعلیم ہے۔ اسلام میں اجتماعی تعلق کو صبر کے اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ہے، یک طرفہ حسن سلوک۔ یعنی فریق ثانی کی طرف سے اگر برا سلوک کیا جائے تب بھی یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کرنا۔

اس تعلیم کے مطابق اسلام میں تشدد کے لئے کوئی عذر، معقول عذر نہیں۔ اسلام کی تعلیم کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page