Al-Risala · October 2016 · page 40

سچائی کا معیار

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰

قطع نظر ، یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ نرم گفتاری کا انداز اختیار کرنا ہے۔ یہ نرم گفتاری دل سے ہونا چاہیے، نہ کہ لپ سروس (lip service) کے طور پر۔ داعی کے اندر حقیقی معنوں میں نرم گفتاری اسی وقت آتی ہے۔ جب کہ وہ دل سے مدعو کا خیر خواہ ہو۔ پھر جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہے، داعی کے اندر نرم گفتاری کا یہ انداز ایک طرفہ ہونا چاہیے۔ مدعو خواہ سخت کلامی کا انداز اختیار کرے، پھر بھی داعی کو نرم کلامی کی روش پر قائم رہنا چاہیے۔

یہ مسلم مناظرین جو مناظرہ کا سٹیج قائم کرتے ہیں، اور بائبل (اور دوسری مذہبی کتابوں) کے خلاف فاتحانہ تقریریں کر کے مسلم عوام کو خوش کرتے ہیں، یہ ان کا کوئی ذاتی کمال نہیں ۔ یہ دراصل قرآن کے مقابلے میں دوسری مذہبی کتابوں میں تحریف کا نتیجہ ہے۔ یہ تحریف ہم کو موقع دیتی ہے، کہ ہم قرآن کی دعوت کو انتہائی خیر خواہی کے انداز میں پیش کریں۔ اس کے برعکس ، اس صورت حال کو لے کر مناظرہ کی مجلسیں قائم کرنا، ایک قسم کا مذہبی استحصال (exploitation) ہے، جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قبول نہیں۔

سچائی کا معیار

ایک شخص نے حضرت عمر سے کہا کہ فلاں شخص بہت سچا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے، یا کیا تم نے اس کو کسی معاملے میں امین بنایا ہے۔ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: پھر تم اس کی تعریف نہ کرو، کیوں کہ تم کو اس کے بارہ میں کوئی علم نہیں۔

حضرت عمر کے اس قول کے مطابق، آدمی کی سچائی کا معیار وضو اور نماز جیسے اعمال نہیں ہیں۔ وضو اور نماز بلا شبہ اہم ہیں۔ مگر وہ کسی کی سچائی کا براہ راست ثبوت نہیں۔ سچائی کا براہ راست ثبوت یہ ہے کہ عملی تجربات پر آدمی پورا اترے۔ جب آدمی کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کرتا ہے، جب اس کو کوئی امانت سونپی جاتی ہے۔ اس وقت اس کا عمل بتاتا ہے کہ وہ فی الواقع کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page