Al-Risala · October 2016 · page 39

دعوت، ڈیبیٹ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۹

(softening of the heart) تالیف قلب کے طریقہ میں مخاطب کے عزت و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کہی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، مناظرہ (debate) میں ایسا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے جو کھلی تحقیر (public humiliation) کے ہم معنی ہو۔ چناں چہ ایسا طریقہ باعتبار نتیجہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتا ہے۔ یعنی اسلام کے نام پر لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنا، لوگوں کے اندر ایسا ذہن بنانا جو اسلام کا مطالعہ objective طور پر کرنے کے قابل نہ رہے۔

دعوت کا تقاضا یہ ہے کہ داعی کے اندر مدعو کے لیے ہمدردانہ ذہن موجود ہو۔ جب تک مدعو کو یہ یقین نہ ہو کہ متکلم اس کا آخری حد تک خیر خواہ ہے، اس وقت تک اس کے اندر سنجیدہ انداز میں داعی کی بات سننے کے لیے آمادگی نہیں ہوگی۔ رسول اللہ کا رویہ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ تالیف قلب کے اصول پر قائم ہوتا تھا۔ اور آپ اپنے اصحاب کو اسی بات کی تلقین کرتے تھے۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک بار اپنے اصحاب کو دعوت کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا: بشروا ولا تنفروا، ويسروا ولا تعسروا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1732)۔ تم کلام کرتے ہوئے لوگوں کو بشارت دو، ان کو متنفر نہ کرو۔ تم ان کے لیے آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو۔

جو مسلمان مناظرہ (debate) کرتے ہیں، وہ اپنے کام کو اسلام کی دعوت کا کام بتاتے ہیں۔ مگر یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے۔ قرآن وحدیث میں دعوت کا جو طریقہ بتایا گیا ہے، وہ سراسر غیر مناظرانہ انداز کا طریقہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قدیم مصر میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو اس وقت کے بادشاہ مصر، فرعون کے دربار میں بھیجا تو دونوں کو ان الفاظ میں ہدایت دی : اِذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ - فَقُولَا لَهُ قَوْلاً لَّيِّناً لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ (20:43-44) یعنی تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔

قول لین (kind word) ایک جامع لفظ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مدعو کی روش سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page