زندگی کے تجربات
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۲
زندگی کے تجربات
ہر انسان کو اپنی زندگی میں تین قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ جو آدمی ان تجربات پر غور کرے، وہ زندگی کی حقیقت کو دریافت کرلے گا۔ وہ اپنی زندگی کی درست منصوبہ بندی میں کامیاب رہے گا، وہ جان لے گا کہ زندگی کا آغاز کیا ہے اور زندگی کا انجام کیا۔ ہر انسان کو زندگی ایک دینے والے کی طرف سے ملتی ہے، لیکن زندگی کی منصوبہ بندی (planning) ہر آدمی کو خود کرنا ہے۔ اور درست منصوبہ بندی کا راز یہی ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی حقیقت کو جانے۔
پہلا تجربہ، اس کا اپنا وجود (existence) ہے۔ یعنی اس کا عدم سے وجود میں آنا۔ ایک شخص جو یکم جنوری کو پیدا ہوا، یکم دسمبر کو اس کا وجود نہ تھا۔ آدمی کا غیر موجود سے موجود ہو جانا، یہ پہلا انوکھا واقعہ ہے، جو آدمی کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ سوچنے کا یہ عمل اس کو اس حقیقت تک پہنچاتا ہے کہ یہاں ایک خالق ہے، اور میں اس کی مخلوق ہوں۔ اپنی پیدائش سے صرف ایک سال پہلے میں اپنے وجود سے مکمل طور پر بے خبر تھا۔ پھر کیسے ممکن تھا کہ میں اپنے کو پیدا کرلوں۔ یہ حقیقت ہر انسان کے لیے اپنے خالق کی معرفت کا ذریعہ ہے۔
دوسرا تجربہ یہ ہے کہ آدمی جب پیدا ہو کر موجودہ زمین (planet earth) پر اپنے آپ کو پاتا ہے تو وہ حیرت انگیز طور پر یہ دریافت کرتا ہے کہ موجودہ دنیا اس کے لیے ایک کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ اس کے لیے زمین پر وہ تمام چیزیں موجود ہیں، جو اس کے لیے لائف سپورٹ سسٹم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تجربہ آدمی کو بتاتا ہے کہ اس کا جو خالق ہے، وہی اس کا رازق بھی ہے۔ جو اس کو پیدا کرنے والا ہے، وہی اس کو سب کچھ دینے والا بھی ہے۔
اس کے بعد تیسرا تجربہ آدمی کو یہ پیش آتا ہے کہ اس دنیا میں ایک محدود مدت، مثلاً اسی سال جینے کے بعد وہ مر جاتا ہے۔ موت اس دنیا میں ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ لازماً پیش آتا ہے۔ جس طرح پہلا اور دوسرا تجربہ آدمی کے لیے دومثبت تجربات ہیں، اسی طرح تیسرا تجربہ بھی اس کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues