Al-Risala · October 2016 · page 43

زندگی کے تجربات

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۳

لیے بلا شبہ ایک مثبت تجربہ ہے۔ پچھلے تجربات کے دوران آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے لیے اس دنیا میں سب کچھ ہے، لیکن اس کا ہیبیٹیٹ (habitat) یہاں موجود نہیں ہے۔ یہ تجربہ انسان کو بتاتا ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ ایک سفر ہے جو انسان کو نان ہیبیٹیٹ سے ہیبیٹیٹ تک پہنچانے والا ہے۔

اس حقیقت حیات کی دریافت انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے۔ یہ دریافت آدمی کو یہ استحقاق عطا کرتی ہے کہ وہ اپنے ابدی ہیبیٹیٹ (habitat) میں داخلہ پائے جس کو جنت کہا گیا ہے۔ یہ دریافت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کے مطابق اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے ۔ وہ زندگی کی گاڑی ایسی سمت میں نہ دوڑائے، جس کے آخر میں کھڈ کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ تجربہ ہر آدمی کو پیش آتا ہے۔ تجربہ گویا زندگی کا عملی مطالعہ ہے۔ لائبریری کا مطالعہ آپ کو نظری حقیقت تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے تجربات کا گہرا مطالعہ کر سکیں تو آپ کا تجربہ آپ کے لیے حقیقت حیات کی معرفت کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ اس قابل بن جائیں گے کہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنائیں۔ اور زندگی کی صحیح شاہراہ پر اپنا سفر شروع کر سکیں۔ جو لوگ ایسا کر سکیں، وہی اس دنیا میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

ہر آدمی جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ تمناؤں اور حوصلوں کی ایک دنیا اپنے ساتھ لاتا ہے۔ لیکن صرف تمناؤں کے پیچھے دوڑنا کوئی عقل مندی نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی اپنی تمنا اور خارجی حقیقت کے درمیان مطابقت تلاش کرے ۔ اور اس کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنائے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ جو آدمی اپنی حوصلوں کو جانے لیکن وہ خارجی حقائق سے بے خبر ہو، وہ کبھی اعلیٰ کامیابی کی منزل تک پہنچنے والا نہیں۔ زندگی کا معاملہ کاگ وہیَل (cogwheel) کی مانند ہے۔ کاگ وہیَل کبھی ایک کاگ پر نہیں چلتی۔ اس کے لیے دونوں کاگ کی حرکت ضروری ہے۔ اسی طرح زندگی کبھی یک طرفہ بنیاد پر سفر نہیں کرتی۔ زندگی کے کامیاب سفر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا ذاتی کاگ فطرت کے خارجی کاگ کے ساتھ مطابقت کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2016 All issues

Printed page