یہ روزہ رکھا، یہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴
الفاظ آغاز کلام زیر نظر کتاب موت وحیات کے موضوع پر ہے۔ یعنی اس موضوع پر کہ انسان کی پیدائش کا مقصد کیا ہے۔ اور موت کے بعد جب وہ زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ یہ موضوع قرآن کا ایک اہم باب ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کے خالق نے قرآن اس لیے اتارا تا کہ انسان زندگی کے مقصد کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کا درست منصوبہ بنائے۔
ہر عورت اور مرد کا یہ معاملہ ہے کہ وہ ایک دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر دنیا میں داخل ہوتا ہے، اور پھر سوسال سے کم مدت تک زندگی گزار کر اگلے مرحلہ حیات کی طرف چلا جاتا ہے۔ قرآن میں اس سوال کا نہایت واضح جواب ملتا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ پہلا کام ہے کہ وہ اس سوال کا مستند جواب معلوم کرے۔ تاکہ وہ اس کے مطابق زندگی گزار کر اپنے ابدی دور حیات میں کامیابی کا درجہ حاصل کرے۔
زیر نظر کتاب (1) دعوتی لٹریچر میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ تزکیہ کے موضوع پر بھی ایک اہم کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک اعتبار سے یہ کتاب ایک دعوتی کتاب بھی ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ محاسبہ خویش (self-introspection) کا ذریعہ بھی۔ وحید الدین، نئی دہلی (۱) یہ مجموعہ ’موت و حیات‘ کتاب کا ایک جزء ہے۔
یہ روزہ رکھا، یہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues