سوچئے، سوچئے، سوچئے
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۵
سوچئے، سوچئے، سوچئے
اگر پہاڑ کی کھوہ (cave) سے کسی دن ایک زندہ انسان نکل آئے، تو سارے دیکھنے اور جاننے والے لوگ اس کو حیرت ناک واقعہ سمجھیں گے۔ تمام لوگ یہ سوچنے لگیں گے کہ ایسا کیوں کر ہوا۔ ماں کے پیٹ سے ایک انسان کا پیدا ہونا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے جو دہشت ناک حد تک عجیب ہے۔ لوگ ماں کے پیٹ سے زندہ انسان کو پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں، لیکن وہ اس کے متعلق کچھ نہیں سوچتے۔ یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ماں کے پیٹ سے انسان کا پیدا ہونا روزانہ کا ایک واقعہ ہے۔ بار بار دیکھنے کی وجہ سے لوگ اس واقعے کے عادی (used to) ہو گئے ہیں، اس لیے وہ اس کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیے رہتے ہیں۔ وہ اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ لوگ اگر اس معاملے پر سنجیدگی کے ساتھ سوچیں تو وہ انسان کی پیدائش کے واقعے میں خالق کے وجود کو دریافت کر لیں۔ جب وہ دیکھیں کہ ایک زندہ اور باشعور انسان پیدا ہو کر زمین پر چل پھر رہا ہے، وہ دیکھتا ہے اور سنتا ہے اور بولتا ہے، تو ان کو محسوس ہو کہ ہر انسان خالق کے وجود کا ایک چلتا پھرتا نشان (sign) ہے۔ ہر انسان لوگوں کو اپنے خالق کا ایک زندہ تعارف معلوم ہونے لگے۔ اسی طرح انسان جب پیدا ہو کر موجودہ زمین (planet earth) پر آتا ہے، تو وہ پاتا ہے کہ یہاں اس کے لیے ایک پورا لائف سپورٹ سسٹم موجود ہے۔ یہ لائف سپورٹ سسٹم اتنا مکمل ہے کہ کوئی قیمت دیے بغیر وہ انسان کی ہر چھوٹی اور بڑی ضرورت کو نہایت اعلیٰ صورت میں پورا کر رہا ہے۔ زمین سے لے کر سورج تک پوری دنیا استثنائی طور پر انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب کہ انسان اچانک مر جاتا ہے۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سو سال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
زمین پر پیدا ہونے والا ہر انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues