Al-Risala · November 2016 · page 7

انسان کی کہانی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۷

انسان کی کہانی

حیوانات کے لیے زندگی صرف ایک بار ہے مگر انسان کے لیے استثنائی طور پر زندگی دو بار ہوتی ہے۔ ہر انسان اصلاً ابدی حیات کا مالک ہے۔ اس ابدی زندگی کا بہت مختصر حصہ قبل از موت دورِ حیات میں ہے۔ اور اس کا بقیہ تمام حصہ بعد از موت دورِ حیات میں۔ کائنات کی دوسری چیزیں قانونِ فطرت کے ماتحت ہیں۔ یہاں کی ہر چیز جبری طور پر وہی کرتی ہے جو اس کے لیے قانونِ فطرت کے تحت مقدر کر دیا گیا ہے۔ لیکن انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان استثنائی طور پر ایک آزاد مخلوق ہے۔ وہ اپنا مستقبل خود اپنے آزاد ارادے کے تحت بناتا ہے۔ وہ اپنی آزادی کا یا تو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط استعمال۔ وہ اپنے مواقع کو یا تو پاتا ہے یا اس کو نادانی کے ساتھ کھو دیتا ہے۔

اس حقیقت کو قرآن میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 95 میں خدا نے یہ اعلان کیا ہے : ہم نے انسان کو بہترین بناوٹ کے ساتھ پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے درجے میں پھینک دیا (التین : 5-4)

We created man in the best mould, then we cast him down to the lowest of the low. یہ گویا انسان کے لیے ایک وارننگ ہے جو اس کو اس کے حال اور اس کے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اعلیٰ امکانات کے ساتھ پیدا کیا، مگر انسان اپنے امکانات کا کم تر استعمال کر کے اپنے آپ کو بدترین ناکامی میں ڈال دیتا ہے : God created man with great potential, but by under-utilizing his potential, he makes himself a worst case of failure. انسان کی شخصیت ایک دوہری شخصیت ہے ۔ جسم اور روح (یا ذہن)۔ سائنسی مطالعہ بتاتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page