Personality is changelessness in change.
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۸
ہے، وہ غیر ابدی ہے۔ جب کہ انسان کی روح ایک ابدی وجود کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان کی روح ایک غیر مادی حقیقت ہے۔ وہ مادی قوانین سے بالا تر ہے۔ جب کہ انسان کا جسم مادی قوانین کے ماتحت ہے اور مسلسل طور پر فنا پذیر ہے۔
حیاتیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کا جسم بہت چھوٹے چھوٹے خلیوں (cells) سے بنا ہے۔ یہ خلیات ہر لمحہ ہزاروں کی تعداد میں ٹوٹتے اور ختم ہوتے رہتے ہیں۔ انسان کا نظام ہضم گویا ایک خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ یہ فیکٹری مسلسل طور پر خلیات کی سپلائی کرتی رہتی ہے۔ اس طرح جسم اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ یہ عمل اس طرح ہوتا ہے کہ ہر چند سال کے بعد آدمی کا جسم بالکل ایک نیا جسم بن جاتا ہے۔ لیکن اس کا روحانی وجود کسی تبدیلی کے بغیر اسی طرح باقی رہتا ہے۔ چنانچہ کہا گیا ہے کہ انسان کی شخصیت تغیر کے درمیان عدم تغیر کا نام ہے :
Personality is changelessness in change.
انسان کی ناکامی کا پہلا مظہر یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت کے غیر متغیر حصے کو نظر انداز کرتا ہے، اور اپنی شخصیت کے تغیر پذیر حصے کو اچھا بنانے میں لگا رہتا ہے۔ وہ اپنی ساری توجہ فانی انسان کی بہتری میں لگا دیتا ہے، اور ابدی انسان کی بہتری کے لیے وہ نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ کچھ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک محدود مدت گزار کر جب وہ مرتا ہے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کا فانی وجود اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے مٹ جاتا ہے اور اس کا ابدی وجود ترقیات سے محروم حالت میں زندگی بعد موت کے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں انسان کی ناکامی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بلاشبہ بدترین ناکامی ہے کہ انسان انتہائی اعلیٰ امکانات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا جائے مگر وہ اپنے امکانات کو صرف ناقص طور پر استعمال کرے اور اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے اپنے اس عدم استعمال کی قیمت دینے کے لیے اپنے ابدی دور حیات میں داخل ہو جائے۔
اسی طرح مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان استثنائی طور پر سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تصوراتی فکر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues