Al-Risala · November 2016 · page 13

I wish I could see this sunset forever

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۳

مرحلہ حیات میں، موت کے بعد کے مرحلہ حیات کے مطابق ، اپنے آپ کو تیار کرے۔ موجودہ دنیا میں ہر عورت اور مرد اسی جانچ (test) پر ہیں۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق ہر عورت اور مرد کا ریکارڈ تیار کیا جارہا ہے۔ جب تاریخ کے خاتمہ پر انسان کا اگلا دور شروع ہوگا، اس وقت انسانوں کا خالق ظاہر ہو کر سامنے آجائے گا۔

یہ فیصلہ کا دن ہوگا۔ اس وقت تمام پیدا ہونے والے عورت اور مرد خالق کے سامنے حاضر کئے جائیں گے۔ اس وقت خالق اپنے تیار کئے ہوئے ریکارڈ کے مطابق، ہر ایک کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔ یہ فیصلہ تمام تر انصاف کی بنیاد پر ہوگا۔ اور پھر کسی کو ابدی جنت میں آباد کیا جائے گا اور کسی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ حالات بتاتے ہیں کہ یہ آنے والا دن بہت قریب آچکا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے جب کہ انسان جاگے اور آنے والے ابدی دور حیات کی تیاری کرے ۔ جنت کا تعارف لارڈ میو نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ وہ ایک بار ایک جزیرے میں تھے۔ وہاں انھیں غروب آفتاب کا منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا حسین تھا کہ میں نے چاہا کہ میں اس کو ہمیشہ دیکھتا رہوں:

I wish I could see this sunset forever

فطرت (nature) بے حد حسین ہے۔ اس کو دیکھنے سے کبھی آدمی کا جی نہیں بھرتا۔ آدمی چاہتا ہے کہ نیچر کو مستقل طور پر دیکھتا رہے۔ مگر زندگی کے تقاضے اس کو مجبور کرتے ہیں، اور اس سے سیر ہوئے بغیر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ نیچر موجودہ دنیا میں جنت کی نمائندہ ہے۔ وہ آخرت کی جنت کی ایک جھلک ہے، جنت میں جو لطافت، جو حسن، جو بے پناہ کشش ہوگی، اس کا ایک ڈور کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں نیچر کی صورت میں ہوتا ہے۔

نیچر ہم کو جنت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ ہم کو بتاتی ہے کہ دنیا میں جنت والے عمل کرو تا کہ آخرت میں جنت کو پاسکو۔ دنیا میں آدمی جنت کی جھلک سے بھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ مگر آخرت کی کامل دنیا میں ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ وہ جنت سے آخری حد تک لطف اندوز ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page