Al-Risala · November 2016 · page 12

زندگی کی حقیقت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۱۲

زندگی کی حقیقت

مطالعہ بتاتا ہے کہ ہماری دنیا جوڑے (pairs) کے اصول پر بنی ہے۔ یہاں ہر چیز جوڑے جوڑے کی صورت میں ہے۔ الیکٹران اور پروٹان، میل پلانٹ اور فیمیل پلانٹ (male plant, female plant)، میل اینمل اور فیمیل اینمل (male animal, female animal) عورت اور مرد، اسی طرح خود دنیا (world) جوڑے کی صورت میں ہے، نیگیٹو ورلڈ اور پازیٹو ورلڈ۔ دنیا کا ایک جوڑاوہ ہے جو آئیڈیل اور پرفیکٹ ہے۔ وہ ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے پاک ہے۔ وہاں انسان کی تمام تمنائیں اپنی کامل صورت میں پوری ہوں گی۔ یہ کامل دنیا صرف منتخب لوگوں کو استحقاق (merit) کی بنیاد پر ملے گی۔ استحقاق کے بغیر کوئی اس دنیا میں داخلہ پانے والا نہیں۔ موجودہ دنیا اسی منصوبہ کا ابتدائی اور عارضی حصہ ہے۔ اس منصوبہ کے تحت، موجودہ دنیا انتخابی میدان (selective ground) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ یہاں جو لوگ پیدا کئے جاتے ہیں، وہ اس لیے پیدا کئے جاتے ہیں، تا کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر دیکھا جائے کہ ان میں سے کون اگلی کامل دنیا میں بسائے جانے کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں۔ اہل افراد کو منتخب کر کے اگلی کامل دنیا میں ہمیشہ کے لیے آباد کر دیا جائے گا اور بقیہ لوگ جو اس جانچ میں پورے نہیں اتریں گے وہ قابل رد (rejected lot) قرار پائیں گے۔

لوگوں کا یہ انتخاب (selection) کس بنیاد پر ہوگا۔ خالق کے منصوبہ کے مطابق، اس کی بنیاد صرف ایک ہے، وہ یہ کہ کس نے آزادی کا غلط استعمال کیا اور کس نے اس کا صحیح استعمال کیا۔ ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال یا غلط استعمال ہی وہ واحد معیار ہے جس کے مطابق لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

خالق کے منصوبہ کے مطابق، صحیح انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو ماحول کی کنڈیشننگ سے بچائے۔ جو خالق کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق زندگی گزارے، جو موت سے پہلے کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page