Al-Risala · November 2016 · page 23

موت کی خبر

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۳

موت کی خبر

ایک شخص کی عمر 75 سال ہوگئی۔ ابتدائی عمر میں اس کی صحت اچھی تھی۔ اب اُس کو بیماریاں لگ گئیں ۔ یہ بیماری اس کے لیے موت کی خبر تھی۔ لیکن اس نے بیماری کو صرف علاج کا معاملہ سمجھا۔ اس نے مختلف ڈاکٹروں اور اسپتالوں سے رجوع کرنا شروع کر دیا۔ جب اس کا ذاتی سرمایہ ختم ہو گیا تو اس نے قرض لے کر اپنا مہنگا علاج شروع کر دیا۔ لیکن اس کو دوبارہ صحت حاصل نہ ہوسکی۔ چند سال بیمار رہ کر وہ مر گیا ۔ یہ ایک انسان کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہی تقریبًا تمام عورت اور مرد کی کہانی ہے۔ بڑھاپا ہر آدمی کے لیے اس بات کی خبر ہوتا ہے کہ موت قریب آگئی۔ اس کے بعد جب اس کو بیماریاں لگتی ہیں تو وہ آدمی کو مزید جھنجھوڑنے کے لیے ہوتی ہیں۔ وہ اس لیے ہوتی ہیں کہ آدمی اگر سو رہا ہے تو وہ جاگ جائے ۔ اور اگر وہ جاگ گیا ہے تو وہ اٹھ جائے ۔ اور اگر وہ اٹھ گیا ہے تو وہ چلنے لگے ۔ بڑھاپا اور بڑھاپے کے بعد آنے والی کم زوری اور بیماری ہمیشہ اس لیے آتی ہے کہ آدمی چونک اُٹھے ۔ وہ موت سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگے۔ وہ موت کے بعد آنے والے حالات پر سوچے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی آخری منصوبہ بندی کرے۔

لیکن انسان واقعات سے سبق نہیں لیتا ۔ بڑھاپا اور بیماری اُس کو موت کی خبر دیتے ہیں، لیکن وہ موت کے بارے میں سوچنے کے بجائے صرف علاج کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے پیچھے دوڑتا ہے، یہاں تک کہ وہ ناامیدی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ دوبارہ جو چیز اُس کو ملتی ہے، وہ تندرستی نہیں ہے، بلکہ موت ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر آدمی روزانہ اپنے آس پاس کے ماحول میں دیکھتا ہے، لیکن کوئی آدمی اُس سے سبق نہیں لیتا۔ اس معاملے میں ہر آدمی اندھا بنا ہوا ہے۔ وہ صرف اس انتظار میں ہے کہ موت اس کی آنکھ کھولے۔ لیکن موت کے بعد آنکھ کا کھلنا، کسی عورت یا مرد کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page