موت کا تصور
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۴
موت کا تصور
موت (death) کے لفظ کو اگر آپ ڈکشنری میں دیکھیں تو اس میں موت کا مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ زندگی کا ابدی خاتمہ:
Permanent cessation of life
موت کی یہ لغوی تعریف، موت کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ آدمی مکمل انسان کی حیثیت سے پیدا ہو، لیکن تھوڑی مدت تک زندہ رہ کر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہوجائے۔ اس کی تمام آرزوئیں (desires) اور اس کی تمام صلاحیتیں اس طرح مٹ جائیں کہ دوبارہ اُن کا وجود میں آنا ممکن نہ رہے۔
اسلام اس کے مقابلے میں، زندگی کا مثبت تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق، موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت کا مطلب انسان کے لیے اس کے دوسرے دور حیات کا آغاز ہے: Death is not the end of life. Death marks the beginning of the second phase of human life. اسلام کے مطابق، انسان کو ابدی مخلوق (eternal being) کے طور پر پیدا کیا گیا، پھر اس کے عرصہ حیات (lifespan) کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا قبل از موت دور، اور بعد از موت دور قبل از موت عرصہ حیات تیاری کی جگہ ہے اور بعد از موت عرصہ حیات تیاری کے مطابق، اپنا مستقل انجام پانے کی جگہ۔
اس تخلیقی پلان کے مطابق، آدمی کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کو تیاری کا دور (preparatory period) سمجھے اور اس کو کامل طور پر تیاری میں گزارے۔ کیوں کہ موت کے بعد زندگی کا جو دور آدمی کے سامنے آئے گا، اُس میں کرنا نہ ہوگا، بلکہ صرف عمل اپنے عمل کا انجام پانا ہوگا۔ موت کا واقعہ دراصل، زندگی کا پیغام ہے، اور وہ یہ ہے۔ جو کرنا ہے، اُس کو آج کے دن کر لو۔ کیوں کہ کل کے دن کرنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues