Al-Risala · February 2016 · page 5

بصیرِ زمانہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۵

بصیرِ زمانہ

ایک طویل حدیث، ابوذرغفاری نے روایت کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ اور عاقل کو چاہیے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو۔ اس حدیث میں عاقل سے مراد عاقل مومن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے اندر یہ دانش مندی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے زمانے سے پوری طرح باخبر ہو۔ اپنے زمانے سے بے خبر ہونا مومن کے لیے جائز نہیں ہے۔ بصیرِ زمانہ ہونے کا مقصد کیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مومن اپنے عمل کی صحیح منصوبہ بندی (right planning) کر سکے۔ زمانے سے باخبری کے بغیر اسلامی عمل کی صحیح منصوبہ بندی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بنا پر مومن کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حالات سے پوری طرح باخبر ہو، ورنہ اس کی سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔

مثال کے طور پر مومن اگر ایسے زمانہ میں ہے جو امن کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں صرف پرامن منصوبہ بندی نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ اگر مومن زمانے کے حالات سے بے خبر ہو، اور وہ امن کے زمانے میں جنگ کی تیاری کرے، اور پھر اپنے زمانے کے لوگوں کے خلاف لڑائی چھیڑ دے تو بلاشبہ اس کا منصوبہ غلط ہو جائے گا۔ اپنے جان و مال کو قربان کرنے کے باوجود وہ کوئی مثبت نتیجہ (positive result) حاصل نہ کر سکے گا۔

اسی طرح اگر مومن پرنٹنگ پریس کے زمانے میں ہے، اور وہ ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں کی لائبریری بنا رہا ہے تو اس کا ایسا کرنا عملاً ایک ایسا کام ہوگا جس کا کوئی حقیقی نتیجہ نہیں۔ اسی طرح اگر مومن ایسے زمانے میں ہے جب کہ اظہارِ رائے کی آزادی ایک مسلمہ حق سمجھا جاتا ہے، اور وہ دوسروں کی اظہارِ رائے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرے تو یہ مطالبہ عملاً کبھی پورا نہ ہوگا۔ البتہ وہ معتدل ماحول ختم ہو جائے گا جس میں مومن کے لیے بھی اظہارِ رائے کی یکساں آزادی ہو ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page