Al-Risala · February 2016 · page 6

موافق اسلام دور

الرسالہ، فروری ۲۰۱۶، صفحہ ۶

موافق اسلام دور

قرآن وحدیث میں کثرت سے ایسی پیشین گوئیوں کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں آنے والا دور، اسلام کے لیے ایک موافق دور بن جائے گا۔ یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلامی دعوت کا مشن موافق حالات میں انجام دیا جاسکے۔ اس سلسلے میں کچھ متعلق آیتیں اور حدیثیں یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ 1- ایک آیت قرآن میں تین مقام پر آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبہ : 33، الفتح: 28، الصَّف: 9) یعنی اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تا کہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے۔ اس آیت میں اظہار سے مراد سیاسی اظہار نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب دلائل و براہین کے ذریعے اظہار۔ اس اظہار سے مراد کوئی وقتی اظہار نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) شروع ہو گا جو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے اس انتہا تک پہنچے گا کہ دنیا میں حالات کے لحاظ سے ایک موافق اسلام دور آ جائے۔ اہل اسلام کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ حکیمانہ منصوبہ مندی کے ذریعے اللہ کے دین کو نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین بنا دے۔

2- اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (فصلت : 53) یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خودان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اُن علمی دلائل کا ذکر ہے جو سائنسی دور میں سامنے آئے۔ اور جو اسلام کے نظریات کو مسلمہ دلائل کے سطح پر ثابت کرنے والے ہیں۔

3- اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا (الاسراء: 1) یعنی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2016 All issues

Printed page