موت کی حقیقت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۲۵
موت کی حقیقت
قرآن کی سورہ آل عمران میں آیا ہے : کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر انسان موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔ انسان دنیا کے ذائقوں میں جیتا ہے، مگر آخر کار جو ذائقہ انسان کے لیے مقدر ہے، وہ موت کا ذائقہ ہے۔ موت کا ذائقہ اتنا زیادہ تلخ ہے کہ وہ دوسرے تمام ذائقوں کو منہدم کر دینے والا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے : أکثروا ذکر هادم اللذات، الموت (سنن الترمذی، کتاب الزہد) ۔ یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ ذائقہ یا لذت کا لفظ یہاں کسی محدود معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر معنوں میں ہے۔ آدمی ایک لذت پسند مخلوق (pleasure-seeking animal) ہے۔ ہر چیز میں اس کو لذت محسوس ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں، اچھا کپڑا پہننے میں، اچھا گھر بنانے میں، اچھی سواریوں پر سفر کرنے میں، تفریح کی مجلسوں میں شریک ہونے میں، شہرت اور اقتدار کی سیٹ پر بیٹھنے میں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزوں میں آدمی کو بے پناہ لذت ملتی ہے۔ وہ ان لذتوں میں گم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ حقیقتاً یہ سوچے کہ موت کے آتے ہی اچانک یہ تمام لذتیں اس سے چھن جائیں گی، تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ مثلاً جب کوئی شخص دوسرے انسان کی عیب زنی کرتا ہے تو غیر شعوری طور پر اس کو یہ خوشی حاصل ہوتی ہے کہ میں ایک بے عیب انسان ہوں۔ جب کوئی انسان کسی کو ذلیل کرتا ہے تو یہ اس کے لیے اس کی انا (ego) کی تسکین کا باعث ہوتا ہے۔ کوئی شخص ناحق طور پر کسی کے مال وجائداد پر قبضہ کرتا ہے تو وہ اس کو اپنی ہوشیاری سمجھ کر اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جن پر عمل کر کے انسان کو خوشی اور فخر (pride) کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو کامیاب انسان سمجھ لیتا ہے۔ لیکن اگر اس کو یقین ہو کہ موت کا فرشتہ کسی بھی وقت آئے گا، اور اچانک اس کی زندگی کا خاتمہ کر دے گا، اس حقیقت کا احساس اگر کسی کو حقیقی طور پر ہو جائے تو وہ محسوس کرے گا کہ موت سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہو چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues