Al-Risala · November 2016 · page 31

کوئی شخص موت کو جیت نہیں سکتا

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۱

اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔ اُس نے ہزاروں سونے کے سکے جرمنی، روم اور نیپلز کے گرجا گھروں اور مذہبی رہنماؤں میں تقسیم کرنا شروع کر دیئے۔ اُس نے تین بحری جہاز دے کر اپنے بہترین کپتان ایک جزیرہ میں بھیجا، تا کہ وہاں سے بڑے بڑے کچھوے لائے جائیں۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ یہ بحری کچھوے زندگی بخش خواص کے مالک ہیں۔

اسے یاد تھا کہ فرانس کے بادشاہوں کو ان کی تاجپوشی کے وقت ایک خاص قسم کی کریم (cream) کا تلک لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک کہاوت ہے کہ یہ کریم 496ء میں قدیم زمانہ کے ایک بادشاہ کو ایک فاختہ نے مہیا کی تھی۔ اور وہ اس کی موت سے چند ہی دن پہلے ایک سنہری رتھ میں پہنچی تھی۔ لوئی نے تمام مذہبی ذرائع کو جو ممکن تھے، اس امید کے ساتھ اکٹھا کیا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکے۔

آخر میں نیپلز کی ایک گپھا سے ایک جوگی اس امید کے ساتھ اُس کے محل میں لایا گیا کہ اس کی پرارتهنا سُفَل ہوگی۔ لیکن وہ بے اثر ثابت ہوئی۔ تاہم لوئی اُسے اپنے نزدیک رکھنے کا اتنا خواہش مند تھا کہ اُس نے اپنے وزیر خزانہ کو حکم دے دیا تھا کہ اُس جوگی کے لیے خواہ سارا خزانہ کیوں نہ صرف کرنا پڑے، ضرور صرف کیا جائے۔

ان تمام کوششوں کے باوجود بادشاہ لوئی پر فالج کا حملہ ہوا، اور 30 اگست کو وہ اس دنیا سے چل بسا۔ اُس کے منہ سے آخری لفظ یہی نکلے: ’’میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتےہیں‘‘۔

فرانس کی عوام کو یہ بات بخوبی یاد ہے کہ اپریل 1974 کو صدر جارجز پمپیوڈ نے اپنے آخری بیان میں کہا تھا جب وہ کینسر کی وجہ سے مررہے تھے: ’’میں اتنا بیمار تو نہیں ہوں جتنا آپ لوگ خیال کرتے ہیں۔ ‘‘ اور چند روز بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ آخر کار 11 ویں لوئی کو معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص موت سے جیت نہیں سکتا۔ (ماخوذ)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page