Al-Risala · November 2016 · page 32

پروموشن کی خبر

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۲

پروموشن کی خبر

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ، انھوں نے کہا کہ میرا پروموشن (promotion) ہو گ ہے، اب مجھے زیادہ تنخواہ ملے گی، زیادہ بڑا گھر رہنے کو ملے گا، اب مجھے زیادہ بڑی گاڑی استعمال کے لیے دی جائے گی۔ پہلے مجھے سفر کے لیے ریلوے کا پاس (pass) ملتا تھا، اب مجھے سفر کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ ملے گا، وغیرہ۔ اس کو سن کر میں نے سوچا کہ یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے۔ جنت کے معاملے کو دنیا کی اصطلاح میں اسی طرح بیان کیا جا سکتا ہے، جنت کا معاملہ بھی گویا پروموشن کا معاملہ ہے، جن لوگوں کا ریکارڈ موجودہ غیر کامل دنیا میں اچھا ہوگا، ان کو پروموٹ کر کے آخرت کی کامل دنیا (جنت) میں داخل کر دیا جائے گا۔

یہ صورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ آدمی دنیا میں بہت زیادہ ہوش مندی کے ساتھ رہے، وہ اپنے ہر معاملے کو اسی نظر سے جانچے کہ وہ جنت میں داخلے کے لیے رکا وٹ ہے یا مددگار۔ اس اعتبار سے جس آدمی کا ذہن بیدار ہو، وہ گویا کہ خود اپنا چوکی دار بن جائے گا، وہ اپنی سوچ، اپنی گفتگو، اپنا سلوک، غرض اپنے قول وعمل کی مسلسل طور پر نگرانی کرتا رہے گا، وہ حضرت عمر کے اس قول کا مصداق بن جائے گا کہ : وزنوا أنفسكم قبل أن توز نوا (کنز العمال: 44203)۔ یعنی اپنے آپ کو دنیا میں تولو اس سے پہلے کہ تم کو آخرت میں تولا جائے ۔

پروموشن کی خبر کی طرح دعوت بھی ایک خبر ہے۔ اگر کسی شخص پر سچائی منکشف ہو جائے تو اس کے لیے یہ واقعہ جاب میں پروموشن کی خبر سے بین گنا زیادہ بڑا واقعہ ہوگا۔ ایسا آدمی اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی دریافت کو اپنے ذہن میں لیے رہے اور اس کا اعلان نہ کرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی کی دریافت اپنے آپ کسی آدمی کو داعی بنا دیتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے سچائی کو پا لیا ہے، اس کے باوجود وہ دعوت الی اللہ کا کام نہ کرے تو یہ گویا یا اس بات کا ثبوت ہے کہ اُس نے سچائی کو پایا ہی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page