خودکشی: سب سے بڑی دیوانگی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۳۳
خودکشی: سب سے بڑی دیوانگی
خودکشی سب سے بڑی دیوانگی ہے۔ کیوں کہ خودکشی آدمی اُس وقت کرتا ہے، جب کہ وہ زیادہ کامیاب انداز میں کوئی عمل کرنے کی پوزیشن میں ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خودکشی کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ کوئی بھی آدمی نارمل حالت میں اس کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو خود ہی مار ڈالے۔ پھر کوئی شخص خودکشی جیسا انتہائی اقدام کیوں کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو اُس وقت یہ ہوتا ہے کہ فطری نظام کے تحت اُس کا دماغ محفوظ انرجی کورلیز (release) کر دیتا ہے۔ اس بنا پر اُس وقت آدمی کی طاقت بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اضافہ شدہ طاقت اس لیے ہوتی ہے کہ آدمی پیش آمدہ مسئلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کر سکے، مگر وہ اس بڑھی ہوئی طاقت کا منفی استعمال کر کے خودکشی کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ خودکشی کا اقدام کریں اور کسی بنا پر مرنے سے بچ جائیں، تو وہ اپنی بعد کی زندگی میں زیادہ بڑا کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ اقدام خودکشی کا واقعہ اُن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی بر تر طاقت سے متعارف کر دیتا ہے۔ چناں چہ موت سے بچنے کی صورت میں وہ اس کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ہیں اور زیادہ بڑی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ فطرت کے اس قانون کو شیخ سعدی نے سادہ طور پر اس طرح بیان کیا ہے:
نہ بینی کہ چوں گربہ عاجز شود بر آر د بہ چنگال، چشم پلنگ انسان کی اکثر غلطیاں فطرت کے قانون کو نہ جاننے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، انسان کے دماغ میں ہمیشہ محفوظ انرجی موجود رہتی ہے۔ جب کوئی سخت مسئلہ پیش آئے تو دماغ آٹومیٹک طور پر اس محفوظ انرجی کور یلیز (release)کردیتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے دریا میں پانی کی قلت کے وقت بیراج کو کھول کر مزید پانی جاری کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر فطرت کے قوانین کو سمجھے تو وہ بہت سی نادانیوں سے بچ جائے، بہت سی نا کامیوں سے وہ کبھی دوچار نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues