Al-Risala · November 2016 · page 40

موت کا واقعہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۰

موت کا واقعہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اکثروا ذكر هادم اللذات یعنی الموت (سنن ابن ماجه، حديث نمبر : 4258) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ اس کی شرح ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ موت دنیا کی لذتوں سے آدمی کو پوری طرح منقطع کردیتی ہے (فإنه يقطع لذات الدنيا قطعاً)۔

اس حدیث میں لذات سے مراد دنیوی تمنائیں (worldly aspirations) ہیں۔ یہاں جس چیز کو ھادم اللذات کہا گیا ہے، اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ آدمی کے اندر اگر موت کا زندہ شعور ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کی دنیوی وابستگی (worldly attachment) باقی نہ رہے گا۔ وہ موت سے پہلے کی زندگی کے مقابلے میں موت کے بعد کی زندگی کو زیادہ اہم سمجھے گا۔ اس کے بعد اس کی سوچ مکمل طور پر آخرت رخی سوچ (akhirat-oriented thinking) بن جائے گی۔ اس سوچ کا اثر یہ ہوگا کہ آدمی کی امنگیں، آدمی کی دوڑ بھاگ، آدمی کی منصوبہ بندی ، سب آخرت رخی ہو جائے گی۔ جو آدمی موت سے غافل ہو، وہ موجودہ دنیا کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے، اس کے ذہن پر موجودہ دنیا کا نقصان اور فائدہ چھایا رہتا ہے۔ وہ ایک دنیا پرست انسان بن جاتا ہے۔

لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے، جس کا زندہ شعور آدمی کو حاصل ہو جائے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔ اب وہ سب سے زیادہ اس دن کے بارے میں سوچے گا، جب کہ لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے (المطففين: 6)۔ اب اس کو سب سے زیادہ اس بات کی فکر ہو جائے گی کہ وہ آخرت میں اللہ کی پکڑ سے کس طرح بچ جائے۔ وہ سب سے زیادہ جہنم سے ڈرے گا، اور سب سے زیادہ جنت کا مشتاق بن جائے گا۔ اس کے لذت اور غم کے تصورات بدل جائیں گے۔ اس کے سوچنے کا طریقہ اور اس کا عملی سلوک ، ہر چیز میں آخرت کا اثر دکھائی دینے لگے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page