Al-Risala · November 2016 · page 41

موت کا تصور

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۱

موت کا تصور

ایک حدیث رسول میں موت کو ھادم اللذات (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 4258) کہا گیا ہے۔ یعنی کوئی انسان اگر اپنی موت کو یاد کرے تو یہ یاد اس کے لیے لذتوں کو ڈھا دینے والی بن جائے گی۔ اس کے لیے پھر کوئی لذت ، لذت نہیں رہے گی۔ جن مادی چیزوں کو لے کر لوگ خوش ہوتے ہیں، وہ چیزیں اس کو خوشی نہ دے سکیں گی۔

موت کا تصور آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ تمھارے اوپر ایک ایسا دن آنے والا ہے جو اچانک تمھارا سب کچھ بدل دے گا۔ تم اپنے بنائے ہوئے گھر میں ہو گے، تم اپنے بچوں کے درمیان خوش ہو گے، تم اپنے دوستوں کے درمیان یا اپنی معاشی زندگی کے درمیان ہو گے، یا اور کسی حال میں ہو گے، اس وقت اچانک موت کا فرشتہ آئے گا۔ وہ تمھارے جسم کو چھلکے کی طرح پھینک دے گا، اور تمھارے اصل وجود کو لے کر ایک اور دنیا میں چلا جائے گا۔ تمھارے جاننے والے کچھ نہ جانیں گے کہ تم کہاں چلے گئے ۔

موت کا یہ تصور آدمی کو بے حد سنجیدہ بنا دیتا ہے۔ آدمی کی سب سے بڑی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں کیا ہوں اور میرا مستقبل کیا ہے، میری زندگی کیا ہے اور میری موت کیا ہے۔ موت سے پہلے کے دور حیات میں مجھے کیا کرنا ہے، موت کے بعد کے دورِ حیات میں میرے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ موت کی یاد آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ زندگی کے معاملے میں بے حد سنجیدہ ہو جائے، وہ ہر لمحہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرنے لگے۔ موت حتمی انداز میں انسان کو بتاتی ہے کہ بظاہر اگر چہ تمھارا حال (present) تمھارے قبضے میں ہے، لیکن تمھارا مستقبل (future) ہرگز تمھارے قبضے میں نہیں۔ موت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے حال سے زیادہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہو جائے۔ وہ موت سے پہلے کے دورِ حیات کی تعمیر کے بجائے موت کے بعد کے دورِ حیات میں مشغول ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues

Printed page