هادم لذات
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۶، صفحہ ۴۲
هادم لذات
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا ذكر هادم اللذات، يعني ابن ماجه، حدیث نمبر (4258)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اگر موت کی حقیقت کو پوری سنجیدگی کے ساتھ یاد کرے تو اس کی زندگی کا فوکس بدل جائے گا۔ اس کی زندگی دنیا رخی زندگی نہیں رہے گی، بلکہ آخرت رخی بن جائے گی۔ جب ایک شخص دنیا پرستی کا طریقہ اختیار کرتا ہے، وہ ہر وقت دنیا کمانے میں لگا رہتا ہے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ اس کو اپنی مصروفیت میں ایک لذت ملتی ہے۔ وہ اس مصروفیت میں اپنے لیے ایک شاندار دنیوی مستقبل کا امکان دیکھتا ہے۔ لیکن اگر اس کو معلوم ہو کہ اس پر ایک ایسا دن آنے والا ہے، جب کہ وہ اپنی ساری کمائی چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جائے گا، تو اس کے لیے اپنی مصروفیت میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہے گی۔ اس کے اندر ایک نئی سوچ بیدار کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ وہ سوچے گا کہ اگر میری کمائی موت کے بعد میرے ساتھ جانے والی نہیں ہے تو مجھے اپنی سرگرمیوں کا رخ بدلنا چاہیے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص کسی سے غصہ ہو جائے، اور وہ اس کے خلاف انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنائے تو موت کی یاد اس کی زندگی کا رخ بدل دے گا۔ وہ سوچے گا کہ جب میرا انتقام ابدی معنوں میں کسی کا کچھ بگاڑنے والا نہیں تو میں کیوں انتقامی کارروائی میں اپنا وقت ضائع کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد آدمی کے لیے یاددہانی (reminder) کا ذریعہ ہے۔ موت کی یاد اس کے عمل کی تتصحیح کرنے والی ہے۔ موت کی یاد آدمی کو منفی (negative) کارروائی سے ہٹا کر مثبت کارروائی میں مصروف کر دیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کو سنجیدہ اور حقیقت پسند بناتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ لازمی طور پر وہ ایک دن انسان کی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں جانے والا ہے، یہ سوچ آدمی کے لیے اپنی صحیح آپ (self-correction) کا ذریعہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2016 All issues